مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 370

مجموعه اشتہارات ٣٧٠ جلد سوم اور جس آنے والے زلزلہ سے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا ، ان سے پہلے میں آپ ڈرا۔ اور اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے ہیں ۔ میں واپس قادیان میں نہیں گیا۔ کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ وقت کب آنے والا ہے۔ میں نے اپنے مریدوں کو بھی اپنے اشتہارات میں بار بار یہی نصیحت کی کہ جس کی مقدرت ہوا سے ضروری ہے کہ کچھ مدت خیموں میں باہر جنگل میں رہے اور جو لوگ بے مقدرت ہیں وہ دعا کرتے رہیں کہ خدا اس بلا سے ہمیں بچاوے ۔ پس میری نیک نیتی پر اس سے زیادہ کون گواہ ہو سکتا ہے کہ اسی خیال سے میں مع اہل و عیال اور اپنی تمام جماعت کے جنگل میں پڑا ہوں اور جنگل کی گرمی کو برداشت کر رہا ہوں حالانکہ قادیان طاعون سے بالکل پاک صاف ہے۔ مگر جس بات سے خدا نے ڈرایا اس سے ڈرنا لازم ہے اور جس ضرر کا یقین ہے اس سے بنی نوع کو ڈرانا بھی شرائط ہمدردی میں داخل ہے۔ اگر میں دیکھوں کہ کسی گھر کے کسی حصہ کو آگ لگنے کو ہے اور گھر کے لوگ خواب میں ہیں۔ ان کو کچھ خبر نہیں اور میں اُن کو اطلاع نہ دوں کہ وہ تشویش میں پڑیں گے تو میں ایک سخت گناہ کا مرتکب ہوں گا ۔ یہ بھی یاد رہے کہ کسی کمزور بنا پر یہ پیشگوئی نہیں کی گئی ہے بلکہ اگر حکام کی طرف سے بھی میرے اس دعوی کی پڑتال ہو تو کم سے کم ہزار پیشگوئی ایسی ثابت ہو گی جو وہ سچی نکلی ۔ پس جبکہ میں صدہا پیشگوئیوں کی سچائی کے تجربہ سے اس بات کے باور کرنے کے لئے ایک بھاری ثبوت اپنے پاس رکھتا ہوں کہ جو کچھ خدا نے مجھے فرمایا ہے سچ ہے تو پھر اس سے لوگوں کو متنبہ نہ کرنا ایک ظلم تھا۔ کیونکہ یہ زلزلہ کی پیشگوئی قطعی نہیں بلکہ شرطی ہے۔ ہر ایک شخص جو نیک چلنی اختیار کرے گا وہ بچایا جائے گا۔ پس ایسے شخص کو کیا غم ہے جو اپنے چال چلن کی درستی رکھتا ہے ۔ ہاں وہ بدمعاش لوگ جو اپنا پیشہ بدکاری حرام خواری خونریزی وغیرہ رکھتے ہیں البتہ ایسے اشتہاروں سے وہ تشویش میں پڑیں گے سوان کی تشویش کی نہ خدا کو پروا ہے اور نہ گورنمنٹ کو ۔ اگر اُن کو خوش رکھنا مقصود ہوتا تو انسانی گورنمنٹیں ان کے لئے جیل خانے کیوں طیار کرتیں ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کسی قسم کی بدظنی ہے جو مخالف لوگ مجھ پر کرتے ہیں ۔ وہ کہتے