مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 368

مجموعه اشتہارات ۳۶۸ جلد سوم طور پر فرودگا ہیں ہیں وہ بھی گریں گی اور جو مستقل سکونت کی عمارتیں ہیں وہ بھی نابود ہو جائیں گی ۔ اور اس زمانہ سے پچیس برس پہلے بھی میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں اسی ز اسی زلزلہ کی خبر دی تھی اور لکھا تھا کہ اس سے پہاڑ پھٹ جائیں گے اور بڑی آفت پیدا ہو گی ۔ اور جب وہ پیشگوئی ۴ ر ا پریل ۱۹۰۵ ء کو پوری ہو گئی اور بندگانِ خدا کا وہ نقصان ہوا جس کی تحریر کرنے کی حاجت نہیں ۔ تب مجھے اس حادثہ سے اس قدر صدمہ پہنچا کہ جس کے بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ بہت ہی کم ایسے لوگ ہوں گے جن کو میری مانند ملک کی اس تباہی کا صدمہ پہنچا ہو ۔ کیونکہ اس زلزلہ کے بعد مجھے بار بار یہ خیال آیا کہ میں نے بڑا گناہ کیا کہ جیسا کہ حق شائع کرنے کا تھا اس پیشگوئی کو شائع نہ کیا ۔ کیونکہ وہ پیشگوئی صرف اردو کے دو اخبار اور دور سالوں میں شائع ہوئی تھی اور یہ بھی فرو گذاشت ہوئی ہے کہ عربی پیشگوئی کا ترجمہ بھی نہیں ہوا تھا اور یہ بھی بڑی غلطی ہوئی کہ انگریزی اخباروں میں اس کو شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اگر چہ میں اس وقت جانتا تھا کہ میرا لکھنا دلوں کو ایک واجبی احتیاط کی طرف مصروف نہیں کرے گا کیونکہ قوم ا میری باتوں کو بدظنی سے دیکھتی ہے اور ہر ایک بھلائی کی بات جو میں پیش کرتا ہوں بجز گالیاں سننے کے میں اُس کا کوئی صلہ نہیں پاتا۔ تاہم میرے دل کو اس غم نے سخت گھیرا کہ جو خبر مجھے پہلے سے بہت صفائی سے خدائے علیم و حکیم کی طرف سے ملی تھی میں نے اس کی پورے طور پر اشاعت نہ کی اور اگر میں پورے طور پر اشاعت کرتا اور بار بار متنبہ کرتا تو ممکن تھا کہ اس پر کار بند ہو کر بعض جانیں بچ جاتیں ۔ چنانچہ جس قدر میری جماعت میں سے دھرم سالہ اور کانگڑہ اور کلو وغیرہ میں لوگ رہتے تھے یا ملازم تھے ایک بھی ان میں سے ضائع نہیں ہوا ۔ اس کی وجہ یہی ہوگی کہ وہ زلزلہ کی خبر کو پہلے سے یا د رکھتے ہوں گے اور حتی الوسع اپنی باطنی اصلاح بھی کی ہوگی ۔ میں اسی غم اور پریشانی میں تھا کہ ایک دفعہ پھر مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر ملی کہ ایک زلزلہ اور آنے والا ہے جو قیامت کا نمونہ ہو گا ۔ اس خبر کے سنتے ہی میرے بدن پر لرزہ پڑ گیا اور میرے دل کی وہ حالت ہوئی جس کو میرا خدا جانتا ہے اور جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں میں پہلے سے بہت شرمندہ تھا کہ