مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 360
مجموعه اشتہارات ۳۶۰ جلد سوم کہ جہاں تک ممکن ہو اپنی اصلاح کرنی چاہیے ۔ کم سے کم ظلم اور تعدی اور فسق و فجور اور ٹھٹھے اور ہنسی سے دستکش ہو جانا چاہیے ۔ بہتر ہے کہ ہر ایک شخص اپنا صدقہ دے اور اگر قربانی بھی کرے تو بہتر ہے اور ٹھٹھے والی مجلسوں سے الگ ہو جاوے۔ یاد رہے کہ اگر کسی کا مذہب اور عقیدہ ناراستی پر ہے مگر وہ ٹھٹھے کرنے والی مجلسوں میں نہیں بیٹھتا اور بد زبانی کرنے والوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملا تا اور فسق و فجور اور ظلم و تعدی اور ہر ایک قسم کی شرارتوں سے اور جھوٹی گواہیوں اور ناحق کے خون اور چوری سے دستکش ہے اور غربت اور مسکینی اور شرافت سے گزارہ کرتا ہے وہ اگر چه باعث اپنی مذہبی غلطی کے روز آخرت میں مؤاخذہ کے لائق ہو گا۔ مگر دنیا میں خدا تعالیٰ کریم و رحیم ہے دوسروں کی نسبت اس پر رحم کرے گا ۔ بشرطیکہ شریر جماعتوں کے ساتھ اس کا پیوند اور تعلق نہ ہوئے خوب یا درکھو کہ جن قوموں کو خدا تعالیٰ نے اس سے پہلے عذاب میں مبتلا کیا تھا جیسا کہ نوح کی قوم اور فرعون کی قوم اور لوط کی قوم وہ اس لئے ہلاک نہیں کی گئی تھیں کہ مذہبی اختلاف درمیان تھا بلکہ وہ اپنی شوخیوں اور شرارتوں کی وجہ سے ہلاک کی گئی تھیں ۔ نوح کی قوم نے نہ صرف حضرت نوح کو مفتری سمجھا بلکہ دن رات ٹھٹھا ہنسی ان کا پیشہ ہو گیا۔ اور فرعون اور اس کی قوم نے پہلے سے زیادہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنا شروع کیا۔ اور لوط کی قوم نے فسق و فجور میں جبر تک نوبت پہنچائی۔ اور جب اُن کو سمجھایا گیا تو لوط اور اس کے اصحاب کی نسبت انہوں نے اپنے لے آیت قرآنی وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا کے سے صاف ظاہر ہے کہ اس قسم کے قہری عذاب کے نازل ہونے سے پہلے خدا کی طرف سے کوئی رسول ضرور مبعوث ہوتا ہے جو خلقت کو آنے والے عذاب سے ڈراتا ہے اور یہ عذاب اس کی تصدیق کے واسطے قہری نشانات ہوتے ہیں اس وقت بھی خدا کا ایک رسول تمہارے درمیان ہے جو مدت سے تم کو ان عذابوں کے آنے کی خبر دے رہا ہے پس سو چو اور ایمان لاؤ کہ نجات پاؤ۔ منه بنی اسراءیل : ١٦