مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 359
مجموعه اشتہارات ۳۵۹ جلد سوم البدر میں شدید زلزلے کے بارے میں آج کی تاریخ سے ایک برس پہلے کی تھی ۔ وہ کس زور سے پوری ہوئی اور جو سخت حادثے کانگڑہ اور بھا گسو اور پالم پور اور سو جان پور تیرہ اور دیگر مقامات جیسا کہ کلو اور رہلو میں ہوئے ، اُن کی تفصیل کی اس جگہ حاجت نہیں ۔ یہ ایک ایسی پیشگوئی تھی جس سے دلوں پر بہت اثر ہونا چاہیے تھا۔ مگر میں نے سُنا ہے کہ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاہور اور امرتسر میں اس پر بھی بہت ٹھٹھا کیا گیا۔ خاص کر پیسہ اخبار کے ایڈیٹر نے اس ٹھٹھے سے بہت سا حصہ لیا اور رڈ کے طور پر لکھا کہ ایسے زلزلے ہمیشہ آتے ہیں اور جاپان میں بہت زلزلے آیا کرتے ہیں اس شخص نے دیدہ و دانستہ سچائی کا خون کرنا چاہا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ دنیا میں کوئی نئی بات نہیں ۔ نوح کے طوفان تک کا بھی پہلے ایک نمونہ گذر چکا ہے ۔ مگر خدائے تعالیٰ جب کسی شدید حادثہ کی قبل از وقت خبر دے۔ جو اُس ملک کے رہنے والے اُس کو ایک غیر معمولی واقعہ اور ایک انہونی بات خیال کرتے ہیں اور اپنے ملک میں ان کے باپ دادوں نے اس کی نظیر نہ دیکھی ہو اور ایسا امر ان کے ملک میں ظاہر ہونا ان کے خیال و گمان میں بھی نہ ہو وہ امر واقع ہو جائے اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو پھر بھی اس کو معمولی بات سمجھنا اگر ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اس درجے کا تعصب رکھنے والے اور دانستہ حق کو چھپانے والے دنیا میں بہت کم ہوں گے۔ شاید ایڈیٹر صاحب پیسہ اخبار اس اپنی سیرت میں لاہور میں ایک ہی ہوں یا چند آدمی جو انگلیوں پر شمار ہوتے ہیں ان کے ہم مشرب ہوں ۔ بہر حال جب کہ پہلی پیشگوئی کو ڈرنے والے دل کے ساتھ نہیں دیکھا گیا اور مجھ کو بقول پیسہ اخبار ایک دکاندار یا افترا کے کاموں کا تاجر ٹھیرایا گیا ہے تو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اب دوسرا نشان دکھاوے تا ماننے والوں پر اس کا رحم ہو اور توبہ کرنے والے تو بہ کر لیں ۔ اور تا وہ لوگ جو کئی منزلوں کی چھتوں کے نیچے سوتے ہیں وہ کسی اور جگہ ڈیرے لگا لیں ۔ اس وقت بجز تو بہ کیا علاج ہے۔ اس آنے والے حادثہ کے لئے کوئی ٹیکا بھی تجویز نہیں ہو سکتا۔ جس سے تسلی ہو۔ پس میں محض خیر خواہی مخلوق کے لئے ہمدردی سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ یہ اشتہار شائع کرتا ہوں