مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 340
مجموعه اشتہارات ۳۴۰ جلد سوم ہیں۔ اگر میں اپنے اس بیان میں جھوٹا ہوں تو انصاف کے لئے اپنے اس معاملہ کو خدا کی عدالت کے سپرد کرتا ہوں ۔“ 66 اس مسودہ پر یہ اعتراض مولوی مذکور نے کیا کہ الفاظ خدا کے حضور میں وغیرہ وغ ہ وغیرہ بھی قسم ہے صرف لفظ اقرار صالح رکھا جاوے اور معاملہ کی تصریح نہ کی جاوے۔ آخر کار بہت بحث کے بعد جوا خیری مسودہ بتاریخ ا ار ماہ جون پیش کیا گیا وہ حسب ذیل لکھا جاتا ہے ۔ بقیہ فٹ نوٹ قسم کھا کر فرمایا کہ مسیح موعود جو آنے والا ہے جو تمہارا امام ہو گا وہ تم میں سے ہی ہوگا یعنی اسی امت میں سے ہو گا آسمان سے نہیں آئے گا ۔ پھر صحیح بخاری جلد ۴ صفحہ ۱۰۶ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموں کا ایک باب باندھا ہے۔ اس باب میں بہت سی قسمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہیں جو دس سے کم نہیں ۔ ایسا ہی صحیح نسائی جلد ثانی صفحہ ۳۸ اکتاب الایمان و النذور میں صفحہ ۱۳۹ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموں کا ذکر ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ يَسْتَنْبُونَكَ أَحَقُّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنه لحَق کے یعنی تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ حق ہے ۔ کہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ یہ حق ہے ۔ ایسا ہی قرآن شریف میں یہ آیت ہے ۔ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ کے یعنی جب تم قسم کھاؤ تو کھاؤ تو جھوٹ اور بد عہدی اور بد ۔ سے اپنی قسم کو بچاؤ ۔ ایسا ہی قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے۔ أَرْبَعُ شَهْدَتِ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَذِبِينَ کے یعنی شخص ملزم چار قسمیں اور بد نیتی خدا کی کھائے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں قسم میں یہ کہے کہ اس پر خدا کی لعنت ہوا گر وہ جھوٹا ہے ۔ اب دیکھو اس جگہ نہ ایک قسم بلکہ ملزم کو پانچ قسمیں دی جاتی ہیں ۔ ہاں قرآن شریف کے رو سے لغو یا جھوٹی قسمیں کھانا منع ہے کیونکہ وہ خدا سے ٹھٹھا ہے اور گستاخی ہے اور ایسی قسمیں کھانا بھی منع ہے جو نیک کاموں سے محروم کرتی ہوں جیسا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ میں آئیندہ مسطح صحابی کو صدقہ خیرات نہیں دوں گا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا کے یعنی ایسی قسمیں مت کھاؤ جو نیک کاموں سے باز رکھیں ۔ ا یونس : ۵۴ ۲ المائدة : ٣٩٠ النور : ۷، ۸ ٢ البقرة : ۲۲۵