مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 339
مجموعه اشتہارات ۳۳۹ جلد سوم گئے کیونکہ شیخ صاحب موصوف نے ہمدردی قوم کے لحاظ سے بہت سا اپنی قیمتی وقت اس مصالحت کی انجام دہی میں خرچ کیا اور کوشش بلیغ فرمائی ۔ مصالحت کرانے والوں نے مسودہ مجوزہ کو پسند فرما کہ کہا کہ یہ مسودہ اب کسی طرح قابل اعتراض نہیں ۔ البتہ اس میں لفظ لعنت ثقیل ہے اس کو کسی طرح بدل دیا جاوے۔ راقم نے اس پر بھی رضا مندی ظاہر کی اور بجائے لفظ لعنت کے مسودہ کی صورت حسب ذیل تجویز کر دی کہ میں اس مقدمہ کو انصاف کے لئے خدا تعالیٰ کی عدالت میں سپرد کرتا ہوں ۔ جب یہ مسودہ مولوی کریم دین کے پاس پیش کیا گیا تو اس نے منظور نہ کیا اور یہ عذر پیش کیا کہ میں قسم نہیں کھاتا۔ حالانکہ عدالت میں بھی بیان اس کا حلفیہ ہو چکا تھا اور جب اس کے حلفیہ بیان کی مصدقہ نقل دکھلا کر اس کو کہا گیا کہ تم نے جب عدالت میں رو بروئے رائے چند و لعل صاحب مجسٹریٹ حلفیہ بیان با قرار صالح دیا کہ نہ میں نے یہ خطوط لکھے ہیں اور نہ سراج الاخبار کے مضامین میرے ہیں تو پھر وہی حلفیہ بیان اب دینا ہے۔ اس پر مولوی موصوف نے کہا کہ وہ ایک مجبوری تھی والا بلا ضرورت اشد قسم کھانا جائز نہیں اس لئے میں لے قسم نہیں کھاتا۔ آخر یہ تجویز ہوا کہ بجائے خدا کی قسم کے اقرار صالح لکھا جاوے اس تجویز پر ذیل کا مسودہ تجویز کیا گیا کیونکہ پہلا بیان مولوی مذکور کا با قرار صالح تھا۔ میں اقرار صالح سے سچ سچ اپنے ایمان سے خدا تعالیٰ کے حضور میں بیان کرتا ہوں کہ خطوط محولہ مقدمہ جن سے میں نے انکار کیا ہے اور مضمون سراج الاخبار ۶ راکتو بر اور ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۲ء جس سے میں انکاری ہوں ۔ در حقیقت وہ خطوط اور وہ مضامین ہرگز ہرگز میرے نہیں لے (فٹ نوٹ ) یہ امر بالکل غلط ہے کہ اسلام میں قسم کھانا منع ہے تمام نیک انسان مسلمانوں میں سے ضرورتوں کے وقت قسم کھا۔ وقت قسم کھاتے آئے ہیں ۔ صحابہ ر صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی ضرورتوں کے وقت قسم کھائی ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بارہا قسمیں کھائیں۔ خود خدا تعالیٰ نے قرآن میں قسمیں کھائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں مجرموں کو قسمیں دلائی گئیں ۔ قسموں کا قرآن شریف میں صریح ذکر ہے۔ شریعت اسلام میں جب کسی کسی اور ثبوت کا دروازہ بند ہو ہو یا یا : پیچیدہ ہو تو قسم پر مدار رکھا جاتا ہے اور صحیح البخاری حد کتاب اللہ اصح الکتاب ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے جو بعد ا :