مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 341

مجموعه اشتہارات ۳۴۱ جلد سوم میں کرم دین با قرار صالح بیان کرتا ہوں کہ خطوط جو میرے نام سے میرزا غلام احمد صاحب اور حکیم فضل الدین کو پہنچے ہیں اور مضامین جو ۶ راکتو برادر ۱۳ راکتو بر۱۹۰۲ء کو میرے نام پر سراج الاخبار میں شائع ہوئے وہ میرے نہیں ۔ اور اگر میرا یہ بیان خلاف واقعہ ہے تو میں بغرض انصاف اس معاملہ کو خدا تعالیٰ کی عدالت میں سپر د کرتا ہوں ۔“ کو اس کے مقابل راقم نے مضمون ذیل منظور کیا ۔ 66 میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے جو الفاظ کرم دین کے متعلق کذاب بہتان ولیم کے لکھے ہیں ، وہ یہ یقین کر کے لکھے ہیں کہ خطوط محولہ امثلہ جات کا لکھنے والا اور اخبار سراج الاخبار مورخه ۶ راکتو بر و ۱۳ راکتو بر ۱۹۰۲ ء کا لکھنے والا مولوی کرم دین ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے پر لعنت ڈالے ۔“ جب یہ مسودے حسب اجازت صاحب مجسٹریٹ مولوی کرم دین کو دکھلائے گئے تو اس نے کہا کہ الفاظ خطوط اور اخبار وغیرہ کا ذکر نہ کیا جائے اور ایسا ہی خدا کی عدالت میں انصاف کے لئے سپردگی بھی نکال دی جاوے اور کوئی تصریح نہ کی جاوے جس کی وجہ وہ یہ بتاتا تھا کہ میرے برخلاف پیشگوئیاں کی جائیں گی ۔ سو اس کے متعلق بھی شرط مان لی گئی تھی تاکہ مصالحت ہو جاوے۔ لیکن وہ کسی پہلو پر نہ آیا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ مصالحت میں قطعی مایوسی ہو کر مقدمہ عدالت میں شروع ہو گیا مجھے اس اشتہار کو جس میں صرف سادے اور سچے واقعات لکھے گئے ہیں اشاعت (بقیہ فٹ نوٹ ) ۔ یہ وہ آیت ہے جو مولوی کرم دین نے پڑھ کر کہا کہ قسم کھانا درست نہیں ۔ تفسیر مفتی ابو سعود مفتی کر ابوسعود مفتی روم میں زیر آیت ولا وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ کے لکھا ہے کہ عرضہ اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز ایک بات کے کرنے سے عاجز اور مانع ہو جائے اور لکھا ہے کہ یہ آیت ابو بکر صدیق کے حق میں ہے جبکہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ مسطح کو جو صحابی ہے بباعث شراکت اس کی حدیث افک میں کچھ خیرات نہیں دوں گا۔ پس خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ایسی قسمیں مت کھاؤ جو تمہیں نیک کاموں اور اعمال صالحہ سے روک دیں نہ یہ کہ معاملہ متنازعہ جس سے طے ہو۔منہ ا البقرة : ۲۲۵