مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 226

مجموعه اشتہارات ۲۲۶ جلد سوم گورنمنٹ کی خوشامد کا کونسا موقع تھا۔ کیا گورنمنٹ نے مجھ کو مجبور کیا تھا کہ میں ایسی کتابیں تالیف کر کے ان ملکوں میں روانہ کروں اور اُن سے گالیاں سنوں میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ عالیہ ضرور میری ان خدمات کا قدر کرے گی اور وہ لوگ جو سراسر بغض اور حسد سے آئے دن خلاف واقعہ میری نسبت شکایتیں کرتے رہتے ہیں وہ ضرور شرمندہ ہوں گے۔ کیونکہ کوئی امر پوشیدہ نہیں جو ظاہر نہ ہو جائے ۔ ایک مگار انسان کب تک اپنی مگاری چھپا سکتا ہے یا ایک مخلص انسان کب تک چھپ سکتا ہے۔ اب پھر ہم اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ میں نے صاحب منار کی دھوکہ دہی کے کھولنے کے لئے صرف ایڈیٹر مناظر اور ہلال کی با مبالغہ تعریف پر ہی حصر نہیں رکھا بلکہ عربی میں ایک اور رسالہ نکالا ہے اور ایڈیٹر منار سے بڑے مبالغہ کے ساتھ نظیر طلب کی ہے۔ اور اس رسالہ سے پہلے ایک چھوٹا سا رسالہ اس کے متنبہ کرنے کے لئے بھیجا جائے گا تا اگر وہ عاجزی سے اپنا قصور معاف کرانا چاہے تو پھر اُس ذلت سے بچ جائے کہ جو بالمقابل لکھنے کے وقت اس کو پیش آنے والی ہے لیکن اس کی بد قسمتی سے ان رسالوں میں بھی گورنمنٹ کی تعریف اور جہاد کی مخالفت موجود ہے۔ پس اگر اس کے اشتعال کا باعث مخالفت جہاد کا مسئلہ ہے ۔ جیسا کہ یقیناً سمجھا گیا۔ اور اس کے پُر رنج اشارات سے ظاہر ہو رہا ہے تو ان رسالوں کو پڑھ کر یہ اشتعال اور بھی زیادہ ہوگا ۔ بالآخر ہم سب مخالف مولویوں کو اطلاع دیتے ہیں کہ صاحب منار کی مخالفت ان کے لئے کچھ بھی جائے خوشی نہیں اور جو کچھ عظمت اہلِ زبان ہونے کی اس کو دی گئی ہے آثار سے معلوم ہورہا ہے کہ وہ جلد تر اس سے رُخصت ہونے کو ہے۔ ان مولویوں کو یہ بھی خبر نہیں کہ دراصل ملک مصر عجم میں داخل ہے اور ان کی عربی تمام عربی زبانوں سے بدتر ہے۔ نمونہ اتنا ہی کافی ہے کہ افغذ کو کہتے ہیں۔ اور اُن کا محاورہ بہت غلط اور عربی فصاحت سے نہایت دور ہے اور وہ اپنے تئیں فصیح بنانے کے لئے ہندیوں سے زیادہ مشکلات میں ہیں کہ ان کی زبان غلط بولنے پر عادی ہوگئی ہے ۔ مگر