مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 225
مجموعه اشتہارات ۲۲۵ جلد سوم پر بیان کر دیا ہے کہ اعجاز ا اعجاز المسیح کی فصاحت بلاغت در حقیقت معجزہ کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ اور پھر لال نے بھی جو عیسائی پرچہ ہے ۔ اعجاز مسیح کی بلاغت فصاحت کی تعریف کی اور وہ پرچہ بھی قاہرہ سے نکلتا ہے ۔ اب ایک طرف تو دو گواہ ہیں اور ایک طرف بیچارہ منا را کیلا ۔ اور ایڈیٹر ہے۔ تو منار اکیلا۔ ایڈیٹر وو منار نے باوجود اس قدر بد گوئی کے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ” میں اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ اس کتاب کی مانند کوئی اور کتاب اہل عرب بھی نہیں لکھ سکتا ۔ اگر ہم چاہیں تو لکھ دیں، لیکن یہ قول اُس کا محض ایک فضول بات ہے اور یہ اسی رنگ کا قول ہے جو کفار قرآن شریف کی نسبت کہتے تھے کہ لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا ۔ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ اگر وہ کتاب فصیح نہیں تو پھر تمہارے اس قول کے کیا معنے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس کی مثل چند روز میں لکھ دیں ۔ کیا تم بھی غلط کتاب کے مقابل پر غلط لکھو گے۔ کے اہل زبان غرض جس پر چہ کی تحریر پر اتنی خوشی کی گئی ہے اس کا یہ حال ہے کہ اسی ملک کے ا وہی پیشہ رکھنے والے اس کو جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ اور جہاد کی وجہ سے بھی اس کا اشتعال بے معنی ہے کیونکہ یہ مسئلہ اب بہت صاف ہو گیا ہے اور وہ زمانہ گذرتا جاتا ہے جبکہ نادان ملا بہشت کی کل نعمتیں جہاد پر ہی موقوف رکھتے تھے۔ اس جگہ بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گذرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے : سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کا فروغیرہ اپنے نام رکھوائے اُسی گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں ۔ ہم نے قبول کیا کہ ہماری اردو کی کتابیں جو ہندوستان میں شائع ہوئیں ان کے دیکھنے سے گورنمنٹ عالیہ کو یہ خیال گذرا ہوگا کہ عالیہ ہماری خوشامد کے لئے ایسی تحریریں لکھی گئی ہیں کیونکہ انسان عالم الغیب نہیں ۔ لیکن یہ دانشمند گورنمنٹ ادنی توجہ سے سمجھ سکتی ہے کہ عرب کے ملکوں میں جو ہم نے ایسی کتابیں بھیجیں جن میں بڑے بڑے مضمون اس گورنمنٹ کی شکر گزاری اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں تھے ان میں ا الانفال : ۳۲