مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 224

مجموعه اشتہارات ۲۲۴ جلد سوم سے جہاد کا میں ہر ایک ملک میں کسی قدر گر وہ مسلمانوں کا ضرور مبتلا ہے۔ بلکہ جو شخص سچے دل مخالف ہو اس کو یہ علماء کا فر سمجھتے ہیں ۔ بلکہ واجب القتل بھی۔ لیکن چونکہ اسلام کی تعلیم میں یہ بات داخل ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا ۔ اس لئے ہم لوگ اگر ایمان اور تقوی کو نہ چھوڑیں تو ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنے قول اور فعل سے ہر طرح اس گورنمنٹ برطانیہ کی نصرت کریں ۔ کیونکہ ہم اس گورنمنٹ کے مبارک قدم سے پہلے ایک جلتے ہوئے تنور میں تھے۔ یہی گورنمنٹ ہے جس نے اس تنور سے ہمیں باہر نکالا ۔ غرض اسی خیال سے جو میرے دل میں مستحکم جما ہوا ہے۔ اعجاز مسیح میں بھی یعنی اس کے صفحہ ۱۵۲ میں جہاد کی مخالفت اور گورنمنٹ کی اطاعت کے بارے میں شد و مد سے لکھا گیا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسی تحریر سے صاحب جریدہ منار اپنے تعصب کی وجہ سے جل گیا اور اس نے آنکھیں بند کر لیں اور سخت گوئی اور گالیوں پر آگیا اور منار میں بہت تحقیر اور توہین سے مجھے یاد کیا اور وہ پرچہ جس میں میری بد گوئی تھی کسی تقریب سے پنجاب میں پہنچ گیا۔ پنجاب کے پُر حسد مثلا تو آگے ہی مجھ سے ناراض تھے ۔ اور پیر گولڑوی کی کمر ٹوٹ چکی تھی اس لئے منار کی وہ دو چار سطر میں مرتے کے لئے ایک سہارا ہو گئیں ۔ تب ان لوگوں نے اپنی طرف سے اور بھی ٹون مرچ لگا کر اور اُن چند سطروں کا اُردو میں ترجمہ کر کے وہ مضمون پر چہ اخبار چودھویں صدی میں جو راولپنڈی سے نکلتا ہے چھپوا دیا اور جا بجا بغلیں مارنے لگے کہ دیکھو اہل زبان نے اور پھر منار کے ایڈیٹر جیسے ادیب نے ان کی عربی کی کیسی خبر لی ۔ بیوقوفوں کو معلوم نہ ہوا کہ یہ تو سارا جہاد کی مخالفت کا مضمون پڑھ کر جوش نکالا گیا ہے۔ ورنہ اسی قاہرہ میں پرچہ مناظر کے ایڈیٹر نے جو ایک نامی ایڈیٹر ہے جس کی تعریف منار بھی کرتا ہے اپنے جریدہ میں صاف طور پر اقرار کر دیا ہے کہ کتاب اعجاز مسیح در حقیقت فصاحت بلاغت میں بے مثل کتاب ہے اور صاف گواہی دے دی ہے کہ اس کے بنانے پر دوسرے مولوی ہرگز قادر نہیں ہوں گے۔ ان مخالفوں کو چاہیے کہ جریدہ مناظر کو طلب کر کے ذرہ آنکھیں کھول کر پڑھیں اور ہمیں بتائیں کہ اگر ایڈیٹر منا راہل زبان ہے تو کیا ایڈیٹر مناظر اہل زبان نہیں ہے؟ بلکہ مناظر نے صاف طور ۔ المسيح