مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 189

مجموعه اشتہارات ۱۸۹ جلد سوم عیسی و کذبوه و ارادوا قتله وجروه الى ارباب الحكومة فمن العجب ان علماء الاسلام اعترفوا بان اليهود الموعودون في آخر الزمان ليسوا يهودًا في الحقيقة بل هم مثلهم من المسلمين في الاعمال والعادة۔ ثم يقولون مع ذالك ان المسيح ينزل من السماء۔ وهو ابن مريم رسول الله في الحقيقة لا مثيله من الاصفياء۔ فكانهم حسبوا هذه الامة اردء الامم واخبثهم فانهم زعموا ان المسلمين قوم ليس فيهم احد يقال له انه مثيل بعض الاخيار السابقين۔ واما مثيل الاشرار فكثير فيهم ففكروا فيه يا معشر العاقلين۔ ثم ان مسئلة نزول عيسى نبي الله كانت من اختراعات النصرانيين۔ واما القرآن فتوفاه والحقه بالميتين۔ وما اضطرت النصارى الى نحت هذه العقيدة الواهية بقیہ ترجمہ ۔ جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تکذیب کی اور انہیں قتل کرنا چاہا اور انہیں ارباب حکومت کی طرف کھینچ کر لے گئے ۔ اور تعجب کی بات ہے کہ علماء اسلام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آخری زمانہ میں جن یہودیوں کا وعدہ دیا گیا ہے وہ فی الحقیقت یہودی نہیں ہوں گے بلکہ وہ مسلمانوں میں سے اپنی عادات اور اعمال کے لحاظ سے ان جیسے ہی ہوں گے اور پھر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا ۔ اور وہ فی الحقیقت مریم کے بیٹے اللہ کے رسول ہوں گے ۔ یوں نہیں کہ اصفیاء میں سے ان کا کوئی مثیل ہو گا ۔ گویا انہوں نے اس امت کو سب امتوں سے زیادہ رڈی اور ناپاک سمجھا ۔ کیونکہ انہوں نے یہ گمان کیا کہ مسلمانوں میں سے کوئی فرد بھی ایسا نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ وہ بعض گذشتہ اخیار کا مثیل ہے ۔ اور جہاں تک اشرار کے مثیلوں کا سوال ہے وہ ان میں بڑی تعداد میں ہیں ۔ پس اے عقلمند گروہ تم اس بارہ میں غور کرو۔ پھر یہ بھی سنو کہ نزول عیسی کا مسئلہ عیسائیوں کی ایجاد ہے ۔ قرآن کریم نے تو مُردہ قرار دے کر اسے مُردوں میں شامل کیا ہے ۔ اور عیسائی اس رڈی عقیدہ کو اختراع کرنے پر اس وقت مجبور ہوئے -