مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 188
مجموعه اشتہارات ۱۸۸ جلد سوم ينزل من السماء۔ من غير ضرب الاعناق وقتل الاعداء۔ ويُرى كالشمس في الضياء۔ ثم نقل اهل الظاهر هذه الاستعارة الى الحقيقة۔ فهذه اوّل مصيبة نزلت على هذه الملة۔ وما اراد الله من انزال المسيح۔ الا ليرى مقابلة الملتين بالتصريح۔ فان نبينا المصطفى كان مثيل موسى۔ وكانت سلسلة خلافة الاسلام۔ كمثل سلسلة خلافة الكليم من الله العلام۔ فوجب من ضرورة هذه المماثلة والمقابلة ان يظهر في آخر هذه السلسلة مسيح كمسيح السلسلة الموسوية۔ ويهود كاليهود الذين كفروا بقیہ ترجمہ ۔ بغیر گردنوں کے اُڑانے اور دشمنوں کے قتل کرنے کے آسمان سے نازل ہوگا اور روشنی میں سورج کی مانند دکھائی دے گا۔ لیکن اہل ظاہر نے اس استعارہ کو حقیقت پر محمول کر لیا۔ اور یہ پہلی مصیبت تھی جو اس قوم پر نازل ہوئی۔ اور انزال مسیح سے خدا تعالیٰ کا ارادہ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ دونوں اقوام کا مقابلہ صراحت سے دکھائے ۔ کیونکہ ہمارے نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسی تھے اور خلافت اسلامیہ کا سلسلہ خدائے علام کی طرف سے خلافت موسویہ کے سلسلہ کی مانند تھا ۔ پس اس مماثلت اور مقابلہ کی ضرورت کی وجہ سے یہ ضروری تھا کہ اس سلسلہ کے آخر میں بھی سلسلہ موسویہ کے مسیح کی مانند ایک مسیح ظاہر ہو اور ان یہود کی طرح یہود بھی پیدا ہوں بقية الحاشية - (۲) ثانيهما لاظهار شهرة المسيح الموعود فى اسرع الاوقات والزمان في جميع البلدان۔ فان الشئ الذي ينزل من السماء يراه كل احد من قريب وبعيد ومن الاطراف والانحاء۔ ولا يبقى عليه ستر في أعين ذوى الانصاف۔ ويشاهد كبرق يبرق من طرف الى طرف حتى يحيط كدائرة على الاطراف ۔ منه بقیہ ترجمہ حاشیہ ۔ (۲) دوسری وجہ مسیح موعود کے لئے لفظ نزول کے اختیار کرنے کی یہ ہے کہ اس سے اس بات کا اظہار کرنا مقصود تھا کہ مسیح موعود ( وقت اور زمانہ کے لحاظ سے ) بہت جلد تمام ممالک میں شہرت پا جائے گا اور جو چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے اس کو ہر ایک دیکھ لیتا ہے قریب ہو یا دور یا اطراف و جوانب سے ہو اور منصف مزاج لوگوں کی نظر میں کوئی پردہ باقی نہیں رہتا اور وہ اس بجلی کی طرح دکھائی دیتی ہے جو ایک طرف سے چمکتی ہے اور پھر تمام اطراف پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو جاتی ہے۔ منہ