مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 126
مجموعه اشتہارات ۱۲۶ جلد سوم مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی پر تعمیل واجب ہو گی ۔ مشائخ عظام و اور مولوی عبداللہ پروفیسر لاہوری کو یا تین اور مولوی علماء کرام کو تشریف آوری سے بغیر از منتخب کریں جو اُن کے مُرید اور پیرو نہ ہوں لے مگر تضیع اوقاء اوقات و تکلیف عبث کیا حاصل ہو ضروری ہو گا کہ یہ تینوں مولوی صاحبان حلفاً اپنی گا ۔ لہذا عرض کرتا ہوں کہ شرق سے رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی عبارت اعلیٰ غرب تک ان بزرگواروں کو آپ کیوں درجہ اور تا ر تائید الہی سے ہے۔ لیکن یہ حلف اس تکلیف محض دیتے ہیں ۔ فقط یہ ایک ہی ۔ مشابہ ہونی چاہیے حلف سے مشابہت چاہیے جس کا ذکر قرآن میں نیازمند ان کا حاضر ہو جائے گا ۔ بشرط قَذْفِ مُحْسَنَات کے باب میں ہے جس میں تین معروض الصدر نامنظوری شرط مذکور یا دفعہ قسم کھانا ضروری ہے ۔ اور دونوں فریق پر یہ غیر حاضری جناب کی دلیل ہوگی ۔ آپ واجب اور لازم ہو گا کہ ایسی تفسیر جس کا ذکر کیا گیا کے کاذب ہونے پر آپ فرماتے ہیں ہے کسی حالت میں ہیں ورق سے کم نہ ہو۔ اور کہ شمس الہدایت کے صفحہ ۸۱ میں ورق سے مراد اس کے اوسط درجہ کے تقطیع اور قلم نیازمند نے علم اور فقر میں لاف ز پر پنجاب اور ہندوستان کے کی ہے۔ ناظرین صفحہ مذکورہ کے ملاحظہ فرمانے کے بعد انصاف کر سکتے صد با قرآن شریف کے نسخے چھپے ہوئے پائے کا ورق ہوگا جس پر پنجاب زنی ہیں کہ آیا لاف زنی ہے ۔ اپنے بارہ لے یاد رہے کہ ہر ایک نبی یا رسول یا محدث جو نشان میں یا تہدید ہے بمقابلہ اس کے جو اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہے وہی نشان خدا تعالیٰ کے نزدیک معیار صدق و کذب ہوتا ہے اور منکرین کی اپنی وو اجماع کورانہ ۔ ”حزب نادان۔ وو 66 درخواست کے نشان معیار نہیں ٹھیر سکتے گو ممکن ہے کہ کبھی ” بے شرم بے حیا ۔ علماء یہود ۔ کے طور پر ان میں سے بھی کوئی بات قبول کی جائے ازالہ ۔ ایام آج ۔ میں دربارہ علماء شاذ و نادر کے طور بران : الصلح ۔ کیونکہ خدا تعالی انہی نشانوں کے ساتھ حجت پوری کرتا ہے سلف خَلَفَ شَكَرَ اللَّهُ سَعْيَهُمْ کے مرزا جو آپ بغرض تحدی پیش کرتا ہے۔ یہی سنت اللہ ہے۔ منہ صاحب نے دیانت اور تہذیب سے