مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 127
مجموعه اشتہارات ۱۲۷ جلد سوم جاتے ہیں لیے پس اس طرز کے مباحثہ اور اس طرز لکھا ہے اور تفرد فی فہم القرآن کا کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ دعوی کیا ہے ۔ در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب تفسیر اور عربی نویسی آپ اس اشتہار کے صفحہ ۳ کے اخیر پر میں تائید یافتہ لوگوں کی طرح ہیں اور مجھ سے یہ کام نہ باریک قلم سے لکھتے ہیں ۔ اگر وہ اپنی کتار ہیں۔ کتاب ہو سکا یا مجھ سے بھی ہو سکا مگر انہوں نے بھی میرے میں جہالت کا اقرار کرتے اور فقر کا بھی دم نہ مقابلہ پر ایسا ہی کر دکھایا تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں مارتے تو اس دعوت کی کچھ ضرورت نہیں اقرار کروں گا کہ حق پیر مہر علی شاہ کے ساتھ ہے اور اس اہ کے ساتھ ہے اور اس تھی۔ الخ۔ لاف زنی کی کیفیت تو ناظرین صورت میں میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اپنی تم اپنی تمام کو ملاحظہ صفحہ مذکورہ سے معلوم : معلوم ہو جائے گی۔ کتابیں جو اس دعوے کے متعلق ہیں جلا دوں گا اور بھلا آپ یہ تو فرمائیے کہ جب آپ اپنی اپنے تئیں مخذول اور مردود سمجھ لوں گا۔ میری طرف دعوت میں مامور من اللہ ہیں تو پھر لاف زنی سے یہی تحریر کافی ہے جس کو میں آج بہ ثبت شہادت پر اس دعوت کی بنا ٹھرانی قول بالتناقضين ہیں گواہان کے اس وقت لکھتا ہوں لیکن اگر میرے خدا نہیں تو کیا ہے۔ نے اس مباحثہ میں مجھے غالب کر دیا اور مہر علی شاہ مرزا صاحب نیازمند کو مع علماء کرام کے صاحب کی زبان بند ہوگئی۔ نہ وہ فصیح عربی پر قادر ہو سکے کسی قسم کا عناد یا حسد جناب کے ساتھ نہیں اور نہ وہ حقائق و معارف سورہ قرآنی میں سے کچھ لکھ مگر کتاب اللہ وسنت رسول صلعم باعث سکے یا یہ کہ اس مباحثہ سے انہوں نے انکار کر دیا تو اس انکار ہے۔ انصاف فرماویں مثل مشہور کا تمام صورتوں میں ان پر واجب ہوگا کہ وہ تو بہ کر کے مصداق نہ بنیں (نالے چور تے نالے مجھ سے بیعت کریں اور لازم ہوگا کہ یہ اقرار صاف چتر ) ظاہر تو عشق محمدی صلعم اور قرآن کریم صاف لفظوں میں بذریعہ اشتہار دس دن کے عرصہ میں سے دم مارنا اور در پردہ کیا بلکہ اعلانیہ شائع کر دیں۔ میں مکر رکھتا ہوں کہ میرا غالب رہنا تحریف کتاب وسنت کرنی۔ اور پھر لیے کافی ہوگا جو ہیں ورق کا اندازہ اس قرآن کے ساتھ کیا جائے جو ۱۹۰۰ء میں مولوی نذیر احمد خانصاحب نے چھپوایا ہے ۔ منہ