مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 582
مجموعه اشتہارات ۵۸۲ جلد اول قولہ ۔ عذاب موت اگر استغفار سے مل جاتا ہے تو اس کی نظیر دو۔ الجواب ۔اے نادان اس کی نظیر قرآن آپ دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّكِرِينَ - فَلَمَّا أَنْجُهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ لي الجزوا اب ظاہر ہے کہ ان آیات کا حاصل مطلب یہی ہے کہ جب بعض گنہگاروں کو ہلاک کرنے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے قہری ارادہ سے اس دریا میں صورت طوفان پیدا کرتا ہے جس میں ان لوگوں کی کشتی ہو تو پھر ان کی تضرع اور رجوع پر ان کو بچا لیتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ پھر وہ مفسدانہ حرکات میں مشغول ہوں گے۔ کیا اس طوفان سے یہ غرض ہوتی ہے کہ کشتی والوں کو صرف خفیف خفیف چوٹیں لگیں مگر ہلاک نہ ہوں اے شیخ ذرا شرم کرنا چاہیے اس قدر عقل کیوں ماری گئی کہ نصوص بدیہیہ سے انکار کئے جاتے ہو۔ قولہ ۔ یونس کا وعدہ بھی شرطیہ تھا۔ الجواب ۔ فتح البیان اور ابن کثیر اور معالم کو دیکھو یعنی سورۃ الانبیاء سورہ یونس اور والصافات کی تفسیر پڑھو اور تفسیر کبیر صفحہ ۱۸۸ سے غور سے پڑھو تا معلوم ہو کہ ابتلا کی وجہ کیا تھی یہی تو تھی کہ حضرت یونس قطعی طور پر عذاب کو سمجھے تھے اگر کوئی شرط منجانب اللہ ہوتی تو یہ ابتلا کیوں آتا۔ چنانچہ صاحب تفسیر کبیر لکھتا ہے أَنَّهُمْ لَمَّا لَمْ يُؤْمِنُوا أَوْعَدَهُمُ بِالْعَذَابِ فَلَمَّا كُشِفَ الْعَذَابُ عَنْهُمْ بَعْدَ مَا تَوَعَدَهُمْ خَرَجَ مِنْهُمْ مُغَاضِبًا يعنى يونس نے اُس وقت عذاب کی خبر سنائی جبکہ اس قوم کے ایمان سے نومید ہو چکا پس جبکہ عذاب اُن پر سے اٹھایا گیا تو غضب ناک ہو کر بقیہ حاشیہ: لیکن انسان ناقص العقل کبھی ان کو تخلف کی صورت میں سمجھ لیتا ہے کیونکہ بعض ایسی مخفی شرائط پر اطلاع نہیں پاتا جو پیشگوئی کو دوسرے رنگ میں لے آتے ہیں ۔ اور ہم لکھ چکے ہیں کہ الہامی پیشگوئیوں میں یہ یاد رکھنے کے لایق ہے کہ وہ ہمیشہ ان شرایط کے لحاظ سے پوری ہوتی ہیں جو سنت اللہ میں اور الہی کتاب میں مندرج ہو چکی ہیں گو وہ شرائط کسی ولی کے الہام میں ہوں یا نہ ہوں ۔ منہ یونس : ۲۴،۲۳