مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 583
مجموعه اشتہارات ۵۸۳ جلد اول نکل گیا پس ان تفسیروں سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اول یونس نے اس قوم کے ایمان کے لئے بہت کوشش کی اور جبکہ کوشش بے سود معلوم ہوئی اور یاس کلی نظر آئی تو انہوں نے خدا تعالیٰ کی وحی سے عذاب کا وعدہ دیا جو تین دن کے بعد نازل ہوگا اور صاحب تفسیر کبیر نے جو پہلا قول نقل کیا ہے اس کے سمجھنے میں نادان شیخ نے دھوکا کھایا ہے اور نہیں سوچا کہ اس کے آگے صفحہ ۱۸۸ میں وہ عبارت لکھی ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ عذاب موت کی پیشگوئی بلا شرط تھی اور یہی آخری قول قول مفسرین اور ابن مسعود اور حسن اور شعمی اور سعید بن جبیر اور وہب کا ہے پھر ہم کہتے ہیں کہ جس حالت میں وعدہ کی تاریخ ٹلنا نصوص قرآنیہ قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے جیسا کہ آیت وَوَعَدْنَا مُوسَى تَکثِينَ لَيْلَةً ہے اس کی شاہد ناطق ہے تو وعید کی تاریخیں جو نزول عذاب پر دال ہوتی ہیں جس کا ٹلنا اور رد بلا ہونا تو بہ اور استغفار اور صدقات سے باتفاق جمیع انبیاء علیہم السلام ثابت ہے پس ان تاریخوں کا ٹلنا بوجہ اولی ثابت ہوا اور اس سے انکار کرنا صرف سفیہ اور نادان کا کام ہے نہ کسی صاحب بصیرت کا۔ اور صاحب تفسیر کبیر اپنی تفسیر کے صفحہ ۱۶۴ میں لکھتے ہیں ان ذنبه يعنى ذنب يونس كان لان الله تعالى وعده انزال الاهلاك بقومه الذين كذبوه فظن انه نازل لا محالة فلاجل هذا الظن لم يصبر على دعائهم فكان الواجب عليهم ان يستمر على الدعاء لجواز ان لا يهلكهم الله بالعذاب - یعنی یونس کا یہ گناہ تھا کہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ملا تھا کہ اس کی قوم پر ہلاکت نازل ہو گی کیونکہ انہوں نے تکذیب کی پس یونس نے سمجھ لیا کہ یہ عذاب موت قطعی اور اٹل ہے اور ضرور نازل ہو گا اسی ظن سے وہ دعا ہدایت پر صبر نہ کر سکا اور واجب تھا کہ دعا ہدایت کی کئے جاتا کیونکہ جائز تھا کہ خدا دعاء ہدایت قبول کرلے اور ہلاک نہ کرے ۔ اب بولو شیخ جی کیسی صفائی سے ثابت ہو گیا کہ یونس نبی وعدہ اہلاک کو قطعی سمجھتا تھا اور یہی اس کے ابتلا کا موجب ہوا کہ تاریخ موت ٹل گئی۔ اور اگر اس پر کفایت نہیں تو دیکھو امام سیوطی ا الاعراف : ۱۴۳