مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 581 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 581

مجموعه اشتہارات ۵۸۱ جلد اول سنت اللہ ہے جس سے بجز ایک سخت جاہل کے اور کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ دیکھو حضرت موسیٰ کو نزول توریت کے لئے تمیں رات کا وعدہ دیا تھا اور کوئی ساتھ شرط نہ تھی مگر وہ وعدہ قائم نہ رہا اور اس پر دس دن اور بڑھائے گئے جس سے بنی اسرائیل گوسالہ پرستی کے فتنہ میں پڑے پس جبکہ اس نص قطعی سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے وعدہ کی تاریخ کو بھی ٹال دیتا ہے جس کے ساتھ کسی شرط کی تصریح نہیں کی گئی تھی تو وعید کی تاریخ میں عند الرجوع تاخیر ڈالنا خود کرم میں داخل ہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ اگر تاریخ عذاب کسی کے توبہ استغفار سے مل جائے تو اس کا نام تخلف وعدہ نہیں کیونکہ بڑا وعدہ سنت اللہ ہے پس جبکہ سنت اللہ پوری ہوئی تو وہ ایفاء وعدہ ہوا نہ تختلف وعدہ لے بقیہ حاشیہ مقرر نہیں ہے کبھی اپنے ظاہری معنوں پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی تاویلی طور پر ۔ ہاں آنحضرت صلعم کے اس طریق اتقاء سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس زمانہ کے علماء کس قدر اس تقوی کے طریق سے دور جا پڑے ہیں ۔ منہ لے حاشیہ۔ اگر بے چارہ شیخ بٹالوی کے دل کو دھڑ کا پکڑتا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ہے اور تاریخ مقررہ کی کمی بیشی کرنا تخلف وعدہ کی ایک جز ہے تو اُسے یا د رکھنا چاہئے کہ وعدہ سے مراد وہ امر ہے جو علم الہی میں بطور وعدہ قرار پا چکا ہے نہ وہ امر جو انسان اپنے خیال کے مطابق اس کو قطعی وعدہ خیال کرتا ہو اسی وجہ سے المیعاد پر جو الف لام ہے وہ عہد ذہنی کی قسم میں سے ہے یعنی وہ امر جو ارادہ قدیمہ میں وعدہ کے نام سے موسوم ہے گو انسان کو اس کی تفاصیل پر علم ہو یا نہ ہو۔ وہ غیر متبدل ہے ورنہ ممکن ہے جو انسان جس بشارت کو جوانسار وعدہ کی صورت میں سمجھتا ہے اس کے ساتھ کوئی ایسی شرط مخفی ہو جس کا عدم تحقق اس بشارت کے عدم تحقق کے لئے ضرور ہو کیونکہ شرائط کا ظاہر کرنا اللہ جل شانہ پر حق واجب نہیں ہے چنانچہ اسی بحث کو شاہ ولی اللہ صاحب نے بسط سے لکھا ہے اور مولوی عبدالحق صاحب دہلوی نے بھی فتوح الغیب کی شرح میں اس میں بہت عمدہ بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلعم کا بدر کی لڑائی میں تضرع اور دعاً اور دعا کرنا اسی خیال سے تھا کہ نا کہ الہی مواعید اور بشارات میں احتمال شرط مخفی ہے اور یہ اس لئے سنت اللہ ہے کہ تا اس کے خاص بندوں پر ہیبت اور عظمت الہی مستولی ہو۔ پس ما حصل کلام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں میں بے شک تخلف نہیں وہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں پورے ہو جاتے ہیں ا آل عمران: ۱۰