مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 580 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 580

مجموعه اشتہارات ۵۸۰ جلد اول صاف طور پر وحی وارد ہو چکی تھی کہ پندرہ دن تک اس کی زندگی ہے پھر فوت ہو جائے گا لیکن اس کی دعا اور تضرع سے خدا تعالیٰ نے وہ پندرہ دن کا وعدہ پندرہ سال کے ساتھ بدلا دیا اور موت میں تاخیر ڈال دی۔ یہ قصہ مفسرین نے بھی لکھا ہے بلکہ اور حدیثیں اس قسم کی بہت ہیں جن کا لکھنا موجب طول ہے بلکہ علاوہ وعید کے ملنے کے جو کرم مولی میں داخل ہے اکابر صوفیاء کا مذہب ہے جو کبھی وعدہ بھی ٹل جاتا ہے اور اس کا ٹلنا موجب ترقی درجات اہل کمال ہوتا ہے دیکھو فیوض الحرمین شاہ ولی اللہ صاحب اور فتوح الغیب سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہا اور وقتوں اور میعادوں کا ٹلنا تو ایک ایسی لے نوٹ ۔ ان بزرگوں نے جو عدم ایفا را وعدہ خدا تعالیٰ پر جان انے جو عدم ایفا را وعدہ خدا تعالیٰ پر جائز رکھا ہے تو اس سے یہی مراد - ہے کہ جائز ہے کہ جس بات کو انسان نے اپنے ناقص علم کے ساتھ وعدہ سمجھ لیا ہے وہ علم باری میں وعدہ نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ایسے مخفی شرائط ہوں جن کا عدم تحقق عدم محقق وعدہ کیلئے ضروری ہو اور علامہ محقق سید علی بن سلیمان مغربی نے اپنی کتاب وشي الديباج على صحيح مسلم بن الحجاج کے صفحہ ۱۲۶ میں تحت حديث يخشى ان تكون الساعة لکھا ہے ۔ فـانـه صلى الله عليه وسلم لكمال معرفته بربه لا يرى وجوب شيء عليه تعالى ككون الساعة لا تقوم الا بعد تلك المقدمات اى خروج الدجال وغيره و ان وعد به یعنی آنحضرت صلعم اپنے کمال معرفت کی وجہ سے قبل از قیامت مت ان علامات کا ظاہر ہونا ضروری نہیں سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ پر یہ حق واجب نہیں خیال کرتے تھے کہ اس کے وعدہ کے موافق دجال اور دآبۃ الارض اور مہدی موعود وغیرہ علامات موعودہ پوری ہوں پھر قیامت آوے بلکہ وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ ممکن ہے کہ قیامت آ جائے اور ان علامتوں میں سے کوئی بھی ظاہر نہ ہو اور کسی قدر اسی کے موافق مواهب لدنیہ کی شرح میں لکھا ہے جو امام علامہ محمد بن عبدالباقی کی طرف سے ہے اور جواز نسخ اخبار کی طرف اشارہ کیا ہے دیکھو صفحہ ۴۵ شرح مذکور لیکن میرے نزدیک ان بزرگوں کا ہرگز یہ منشا نہیں ہوگا کہ آنحضرت صلعم وعدہ کو فی الحقیقت وعدہ سمجھ کر پھر جو از عدم ایفائے وعدہ کے قائل تھے کیونکہ تخلف وعدہ ایک نقص ہے جو خدا تعالیٰ پر جائز نہیں بلکہ آنحضرت صلعم یہ سمجھتے ہوں گے کہ خروج دجال اور ظہور مہدی وغیرہ یہ سب مواعید تو برحق ہیں لیکن ممکن ہے کہ انکے ظہور کے لئے شرائط ہوں جن کے عدم سے یہ بھی حیز عدم میں رہیں اور یا ممکن ہے کہ ایسے طور سے یہ وعدے ظہور میں آجائیں کہ ان پر اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ سنت اللہ میں پیشگوئیوں کے ظہور کے لئے کوئی ایک طور اور طریق