مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 433

مجموعه اشتہارات ۴۳۳ جلد اول بحثوں نام جنگ مقدس رکھا ہے اس لئے ان کی خدمت میں بتاریخ ۲۵ را پریل ۱۸۹۳ء کو لکھا گیا کہ وہ شرائط جو میرے دوستوں نے قبول کئے ہیں وہ مجھے بھی قبول ہیں لیکن یہ بات پہلے سے تجویز ہو جانا ضروری ہے کہ اس جنگ مقدس کا فریقین پر اثر کیا ہوگا۔ اور کیونکر کھلے کھلے طور پر سمجھا جائیگا کہ در حقیقت فلاں فریق کو شکست آگئی ہے کیونکہ سالہا سال کے تجربہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ معقولی اور منقولی میں گو کیسی ہی صفائی سے ایک فریق غالب آجائے مگر دوسرے فریق کے لوگ کبھی قائل نہیں ہوتے کہ وہ در حقیقت مغلوب ہو گئے ہیں بلکہ مباحثات کے شائع کرنے کے وقت اپنی تحریرات پر حاشیے چڑھا چڑھا کر یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنا ہی غالب رہنا ثابت ہو اور اگر صرف اسی قدر منقولی بحث ہو تو ایک عقلمند پیشگوئی کر سکتا ہے کہ یہ مباحثہ بھی انہیں مباحثات کی مانند ہوگا جو ابتک پادری صاحبوں اور علماء اسلام میں ہوتے رہے ہیں بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ایسے مباحثہ میں کوئی بھی نئی بات معلوم نہیں ہوتی پادری صاحبوں کی طرف سے وہی معمولی اعتراضات ہوں گے کہ مثلاً اسلام زور شمشیر سے پھیلا ہے اسلام میں کثرت ازدواج کی تعلیم ہے۔ اسلام کا بہشت ایک جسمانی بہشت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا ہی ہماری طرف سے بھی وہی معمولی جواب ہونگے کہ اسلام نے تلوار اُٹھانے میں سبقت نہیں کی اور اسلام نے صرف بوقت ضرورت امن قائم کرنے کی حد تک تلوار اُٹھائی ہے اور اسلام نے عورتوں اور بچوں اور راہبوں کے قتل کرنے کیلئے حکم نہیں دیا بلکہ جنہوں نے سبقت کر کے اسلام پر تلوار کھینچی وہ تلوار سے ہی مارے گئے ۔ اور تلوار کی لڑائیوں میں سب سے بڑھ کر توریت کی تعلیم ہے جس کی رو سے بیشمار عورتیں اور بچے بھی قتل کئے گئے جس خدا کی نظر میں وہ بے رحمی اور سختی کی لڑائیاں بڑی نہیں تھیں بلکہ اُس کے حکم سے تھیں تو پھر نہایت بے انصافی ہوگی کہ وہی خدا اسلام کی ان لڑائیوں سے ناراض ہو جو مظلوم ہونے کی حالت میں یا امن قائم کرنے کی غرض سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو کرنی پڑی تھیں ایسا ہی کثرت ازدواج کے اعتراض میں ہماری طرف سے وہی معمولی جواب ہوگا کہ اسلام سے پہلے اکثر قوموں میں کثرت ازدواج کی سینکڑوں اور ہزاروں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور اسلام نے تعداد ازدواج کو کم کیا ہے نہ زیادہ ۔ بلکہ یہ قرآن میں ہی