مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 432
مجموعه اشتہارات ۴۳۲ جلد اول (۴) شیخ رحمت اللہ صاحب (۵) مولوی عبدالکریم صاحب (۶) منشی غلام قادر صاحب فصیح ۔ (۷) میاں محمد یوسف خاں صاحب (۸) شیخ نور احمد صاحب (۹) میاں محمدا کبر صاحب۔ (۱۰) حکیم محمد اشرف صاحب (۱۱) حکیم نعمت اللہ صاحب (۱۲) مولوی غلام احمد صاحب انجینئر ۔ میاں (۱۳) محمد بخش صاحب (۱۴) خلیفہ نورالدین صاحب حب (۱۵) (۱۵) میاں محمد اسمعیل صاحب۔ صاح تب ڈاکٹر صاحب اور میرے دوستوں میں جو میری طرف سے وکیل تھے کچھ گفتگو ہو کر بالاتفاق یہ بات قرار پائی کہ یہ مباحثہ بمقام امرت سر واقع ہو اور ڈاکٹر صاحب کی طرف سے اس جنگ کا پہلوان مسٹر عبد اللہ آتھم سابق اکسٹرا اسٹنٹ تجویز کیا گیا اور یہ بھی اُن کی طرف سے تجویز کیا گیا کہ فریقین تین تین معاون اپنے ساتھ رکھنے کے مجاز ہوں گے اور ہر یک فریق کو چھ چھ دن فریق مخالف پر اعتراض کرنے کے لئے دیئے گئے اس طرح پر کہ اول چھ روز تک ہمارا حق ہوگا کہ ہم فریق مخالف کے مذہب اور تعلیم اور عقیدہ پر اعتراض کریں مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور اُن کے منجی ہونے کے بارہ میں ثبوت مانگیں یا اور کوئی اعتراض جو سیحی مذہب پر ہو سکتا ہے پیش کریں ایسا ہی فریق مخالف کا بھی حق ہوگا کہ وہ بھی چھ روز تک اسلامی تعلیم پر اعتراض کئے جائیں ۔ اور یہ بھی قرار پایا کہ مجلسی انتظام کے لئے ایک ایک صدرانجمن مقرر ہو جو فریق مخالف کے گروہ کو شور و غوغا اور نا جائز کارروائی اور دخل بیجا سے روکے اور یہ بات بھی باہم مقرر اور مسلم ہو چکی کہ ہر یک فریق کے ساتھ پچاس سے زیادہ اپنی قوم کے لوگ نہیں ہوں گے اور فریقین ایک سوٹکٹ چھاپ کر پچاس پچاس اپنے اپنے آدمیوں کے حوالہ کریں گے اور بغیر دکھلا نے ٹکٹ کے کوئی اندر نہیں آسکے گا اور آخر پر ڈاکٹر صاحب کی خاص درخواست سے یہ بات قرار پائی کہ یہ بحث ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہونی چاہیے انتظام مقام مباحثہ اور تجویز مباحثہ ڈاکٹر صاحب کے متعلق رہا اور وہی اس کے ذمہ دار ہوئے ۔ اور بعد طے ہونے ان تمام مراتب کے ڈاکٹر صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کی اس تحریر پر دستخط ہو گئے جس میں یہ شرائط بہ تفصیل لکھے گئے تھے اور یہ قرار پایا کہ ۱۵ مئی ۱۸۹۳ ء تک فریقین ان شرائط مباحثہ کو شائع کر دیں اور پھر میرے دوست قادیان میں پہنچے اور چونکہ ڈاکٹر صاحب نے اس مباحثہ کا