مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 434
مجموعه اشتہارات ۴۳۴ جلد اول ایک فضیلت خاص ہے کہ اس نے ازدواج کی بے حدی اور بے قیدی کو رد کر دیا ہے۔ اور کیا وہ اسرائیلی قوم کے مقدس نبی جنہوں نے سو سو بیوی کی بلکہ بعض نے سات سو تک نوبت پہنچائی وہ اخیر عمر تک حرامکاری میں مبتلا رہے اور کیا اُن کی اولا د جن میں سے بعض راستباز بلکہ نبی بھی تھے نا جائز طریق کی اولا د سمجھی جاتی ہے؟ ایسا ہی بہشت کی نسبت بھی وہی معمولی جواب ہوگا کہ مسلمانوں کا بہشت صرف جسمانی بہشت نہیں بلکہ دیدار الہی کا گھر ہے اور دونوں قسم کی سعادتوں روحانی اور جسمانی کی جگہ ہے ہاں عیسائی صاحبوں کا دوزخ محض جسمانی ہے۔ لیکن اس جگہ سوال تو یہ ہے کہ ان مباحثات کا نتیجہ کیا ہوگا کیا امید رکھ سکتے ہیں کہ عیسائی صاحبان مسلمانوں کے ان جوابات کو جو سرا سر حق اور انصاف پر مبنی ہیں قبول کر لیں گے یا ایک انسان سراسر کے خدا بنانے کیلئے صرف معجزات کافی سمجھے جائیں گے یا بائیبل کی وہ عبارتیں جن میں علاوہ حضرت مسیح کے ذکر کے کہیں یہ لکھا ہے کہ تم سب خدا کے بیٹے ہو اور کہیں یہ کہ تم اس کی بیٹیاں ہو اور کہیں یہ کہ تم سب خدا ہو ظاہر پر محمول قرار دئے جائیں گے اور جب کہ ایسا ہونا ممکن نہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس بحث کا عمدہ نتیجہ جس کے لئے ۱۲ دن امرتسر میں ٹھہر نا ضروری ہے کیا ہوگا ۔ ہوگا۔ ان وجوہات کے خیال سے ڈاکٹر صاحب کو بذریعہ خط رجسٹر ڈ یہ صلاح دی گئی تھی کہ مناسب ہے کہ چھ دن کے بعد یعنی جب فریقین اپنے اپنے چھ دن پورے کر لیں تو ان میں مباہلہ بھی ہو اور وہ صرف اس قدر کافی ہے کہ فریقین اپنے مذہب کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان چاہیں اور ان نشانوں کے ظہور کے لئے ایک سال کی میعاد قائم ہو پھر جس فریق کی تائید میں کوئی آسمانی نشان ہو ظاہر ہو جو انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو جس کا مقابلہ فریق مخالف سے نہ ہو سکے تو لازم ہوگا کہ فریق مغلوب اس فریق کا مذہب اختیار کرلے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے آسمانی نشان کے ساتھ غالب کیا ہے اور مذہب اختیار کرنے سے اگر انکار کرے تو واجب ہوگا کہ اپنی نصف جائداد اس سچے مذہب کی امداد کی غرض سے فریق غالب کے حوالہ کر دے یہ ایسی صورت ہے کہ اس سے حق اور باطل میں بکلی فرق ہو جائے گا کیونکہ جب ایک خارق نشان کے مقابل پر ایک فریق بالمقابل نشان دکھلانے سے