مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 22

مجموعه اشتہارات ۲۲ جلد اول جبر اُس نقصان کا ہو جاوے گا جو کمی قیمت کے باعث سے عاید حال ہوگا۔ صرف پانچ روپیہ قیمت مقرر پانچ کی تھی مگر اب تک ایسا ظہور میں نہ آیا اور ہم انتظار کرتے کرتے تھک بھی گئے ۔ البتہ کئی ایک صاحبان عالی ہمت یعنی جناب نواب صاحب بہادر فرمانروائے ریاست لوہارو اور علاوہ ان کے جناب خلیفه سید محمد حسن خان بهادر وزیر اعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ نے جو ہمیشہ اشاعت علمی اور ہمدردی قومی اور دینی خیر خواہی بندگان الہی میں بدل و جان مصروف ہو رہے ہیں۔ اس کام میں بھی جس کی علت غائی اشاعت دلائل حقیت دینی اور اظہار شان اور شوکت اور راستی اور صداقت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہے خریداری کتب اور فراہمی خریداروں میں کما حقہ مدد فرمائی کہ جس کی تفصیل انشاء اللہ عنوان کتاب براہین احمدیہ پر درج کی جائے گی اور جناب نواب صاحب بہادر ممدوح نے علاوہ خریداری کتب کے کسی قدر روپیہ بطور اعانت کتاب کے عطا فرمانا بھی وعدہ فرمایا۔ لیکن بباعث اس کے جو قیمت کتاب کی نہایت ہی کم تھی اور جبر نقصان اس کے کا بہت سی امانتوں پر موقوف تھا جو محض فی سبیل اللہ ہر طرف سے کی جاتیں طبع کتاب میں بڑی توقف ظہور میں آئی مگر اب کہاں تک توقف کی جائے ناچار بصد اضطرار یہ تجویز سوچی گئی جو قیمت کتاب کی جو بنظر حیثیت کتاب کے بغایت درجہ قلیل اور ناچیز ہے دو چند کی جائے۔ لہذا بذریعہ اعلان ہذا کے ظاہر کیا جاتا ہے جو من بعد جملہ صاحبین باستثناء ان صاحبوں کے جو قیمت ادا کر چکے ہیں یا ادا کرنے کا وعدہ ہو چکا ہے قیمت اس کتاب کی بجائے پانچ روپیہ کے دس روپیہ تصور فرماویں۔ مگر واضح رہے کہ اگر بعد معلوم کرنے قدرو منزلت کتاب کے کوئی امیر عالی ہمت محض فی سبیل اللہ اس قد را عانت فرماویں گے کہ جو کسر کمی قیمت کی ہے اس سے پوری ہو جائے گی تو پھر بہ تجدید اعلان وہی پہلی قیمت کہ جس میں عام مسلمانوں کا فائدہ ہے قرار پا جائے گی اور ثواب اس کا اس محسن کو ملتا رہے گا۔ اور یہ وہ خیال ہے کہ جس سے ابھی میں نا امید نہیں اور اغلب ہے کہ بعد شائع ہونے کتاب اور معلوم ہونے فوائد اس کے کہ ایسا ہی ہو اور انشاء اللہ یہ کتا ناء اللہ یہ کتاب جنوری ۱۸۸۰ ء میں زیر طبع ہو کر اس زیر طبع ہو کر اس کی اجراء اسی مہینہ ؟ یا فروری