مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 290
مجموعه اشتہارات ۲۹۰ جلد اول آپ ہی کے اس شاگر درشید کی مہربانی ہے اور پھر بھی میں نے كَمَا تُدِينُ تُدَانُ پر عمل نہیں کیا۔ کیونکہ سفہاء کی طرح سب وشتم میری فطرت کے مخالف ہیں یہ شیوہ آپ اور آپ کے شاگردوں کے لیے ہی موزوں ہے۔ میں بفضلہ تعالیٰ جوشِ نفس سے محفوظ ہوں۔ میرے ہر ایک لفظ کی صحت نیت پر بنا ہے۔ آپ کے جگانے کے لیے کسی قدر بلند آواز کی ضرورت پڑی۔ ورنہ مجھے آپ لوگوں کی گالیوں پر نظر نہیں ۔ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى بالآخر یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی طرح سے بحث کرنا نہیں چاہتے تو ایک مجلس میں میرے تمام دلائل وفات مسیح سن کر اللہ جل شانہ کی تین بار قسم کھا کر یہ کہ دیجیے کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور صحیح اور یقینی امر یہی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زنده بجسد و العنصر ی آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں اور آیات قرآنی اپنی صریح دلالت سے اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ اپنے کھلے کھلے منطوق سے اسی پر شہادت دیتی ہیں۔ اور میرا عقیدہ یہی ہے۔ تب میں آپ کی اس گستاخی اور حق پوشی اور بد دیانتی اور جھوٹی گواہی کے فیصلہ کے لئے جناب الہی میں تضرع اور ابتہال کروں گا۔ اور چونکہ میری توجہ پر مجھے ارشاد ہو چکا ہے کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ تقویٰ کا طریق چھوڑ کر ایسی گستاخی کریں گے ۔ اور آیت لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ کو نظر انداز کر دیں گے تو ایک سال تک اس گستاخی کا آپ پر ایسا کھلا کھلا اثر پڑے گا جو دوسرں کے لیے بطور نشان کے ہو جائے گا۔ لہذا مظہر ہوں کہ اگر بحث سے کنارہ ہے تو اسی طور سے فیصلہ کر لیجئے تا وہ لوگ جو نشان نشان کرتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ کوئی نشان دکھا دیوے وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حلفی اقرا اقرار دربارہ ادائے پچیس روپیہ فی حدیث اور فی آیت ۔ بالآخر مولوی سید نذیر حسین صاحب کو یہ بھی واضح رہے کہ اگر وہ اپنے اس عقیدہ کی تائید میں جو حضرت مسیح ابن مریم بجسده العنصری زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے آیات صریحہ بینہ قطعية الدلالت و احادیث صحیحہ متصلہ ا بنی اسراءیل: ۳۷ -