مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 289
مجموعه اشتہارات ۲۸۹ جلد اول رائے کرنے کے لیے وہی تحریرات یقینی ذریعہ مل جائے ۔ آپ یقیناً یاد رکھیں کہ یہ آپ کی جھوٹی خوشی ہے اور یہ آپ کا غلط خیال ہے کہ یقینی اور قطعی طور پر مسیح ابن مریم زندہ بجسد و العنصری آسمان کی طرف اُٹھایا گیا ہے۔ جس دن بحث کے لیے آپ میرے سامنے آئیں گے اس دن تمام یہ خوشی رنج کے ساتھ مبدل ہو جائے گی اور سخت رسوائی سے آپ کو اس قول سے رجوع کرنا پڑے گا کہ در حقیقت آیات بینہ صریحہ و قطعية الدلالت اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ سے حضرت مسیح ابن مریم کی جسمانی زندگی ثابت ہے۔ اگر چہ آپ درس قرآن وحدیث میں ریش و بروت سفید کر بیٹھے ہیں ۔ مگر حقیقت تک آپ کو کسی استاد نے نہیں پہنچایا۔ اور مغز قال اللہ اور قال الرسول سے دور مہجور و بے نصیب محض ہیں۔ آپ کو شرم کرنی چاہیے کہ شیخ الکل ہونے کا دعویٰ اور پھر اس فضیحت کی غلطی کہ آپ یقین رکھتے ہیں کہ ایسی آیات صريحة الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ موجود ہیں جن سے مسیح ابن مریم کا زندہ بجسده العنصری آسمان پر جانا ثابت ہوتا ہے۔ شاید ایسی حدیثیں آپ کی کوٹھری میں بند ہوں گی جواب تک کسی پر ظاہر نہیں ہوئیں۔ اگر آپ کو کچھ شرم ہے تو اب بلا توقف بحث کے لیے میدان میں آ جائیں۔ تاسیہ روئے شود هر که در وغش باشد ۔ اگر آپ اس مسئلہ میں بحث کرنے کے لیے نہ آئے اور مفسد طبع ملانوں پر بھروسہ رکھ کر کوٹھری میں چھپ گئے تو یا درکھو کہ تمام ہندوستان و پنجاب میں ذلت اور بدنامی کے ساتھ آپ مشہور ہو جائیں گے اور شیخ الکل ہونے کی تمام رونق جاتی رہے گی۔ میں متعجب ہوں کہ آپ کس بات کے شیخ الکل ہیں۔ قرائن سے اس بات کا یقین آتا ہے کہ آپ نے ہی ایک بد زبان بٹالوی فطرت کے بگڑے ہوئے شیخ کو در پردہ سمجھا رکھا ہے کہ مساجد اور مجالس میں اور نیز آپ کے مکان پر علانیہ اس عاجز کو گالیاں دیا کرے۔ چنانچہ اس نیک بخت کا یہی کام ہے کہ آپ کو تو ہر جگہ شیخ الکل کہہ کر دوسروں کی ہجو ملیح کرتا ہے۔ اور اس عاجز کو جابجا شیطان، دجال، بے ایمان ، کافر کے نام سے یاد کرتا ہے مگر در حقیقت یہ گالیاں اس کی طرف سے نہیں آپ کی طرف سے ہیں۔ کیونکہ اگر ذرہ سی بھی دھمکی آپ کی طرف سے ملتی تو وہ دم بخود رہ جاتا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ اس شخص کے مخالف نہیں بلکہ ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور آپ پر واضح رہے کہ کسی قدر درشتی جو اس تحریر میں استعمال کی گئی ہے وہ در حقیقت