مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 288

مجموعه اشتہارات ۲۸۸ جلد اول چکا ہوں اور بحث کے لیے طیار بیٹھا ہوں مصائب سفر اُٹھا کر اور دہلی والوں سے ہر روز گالیوں اور لعن طعن کی برداشت کر کے محض آپ سے بحث کرنے کے لیے اے شیخ الکل صاحب ! بیٹھا ہوں ۔ یہ عذر کوئی عقلمند قبول نہیں کرے گا کہ آپ کے یک طرفہ جلسہ میں عاجز حاضر نہ ہو سکا۔ اگر آپ حق پر ہیں اور آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ در حقیقت قرآن کریم کی آیات صریحہ قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ کے منطوق سے حضرت مسیح ابن مریم کا زندہ بجسد و العنصری آسمان پر اٹھائے جانا متحقق اور ثابت شدہ امر ہے تو ایسی رکیک باتوں کا فتح نام رکھنا سخت نا مردی ہے۔ بسم اللہ آئیے اور اپناوہ عجیب ثبوت دکھلائیے! اگر آپ ایسے وقت میں جو تمام ملک ہند میں میری طرف سے بدلائل شافیہ یہ اشاعت ہو گئی ہے کہ در حقیقت مسیح ابن مریم کا زندہ بجسد والعنصری اُٹھائے جانا قرآن وحدیث سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ وہ فوت ہو چکا ہے اور جو شخص ان کی جسمانی دنیوی زندگی کا مدعی ہے وہ جھوٹا و کذاب ہے۔ میدان میں آ کر حضرت مسیح ابن مریم کی جسمانی دنیوی زندگی کا ثبوت نہیں دیں گے تو پھر آپ کس مرض کی دوا ہیں اور شیخ الکل کیوں اپنے شاگردوں سے کہلاتے ہیں۔ حضرت بحث کرنے کے لیے باہر تشریف لائیے کہ میں بحث کے لیے تیار ہوں ۔ آپ کیوں مقتدا اور شیخ الکل ہونے کی حالت میں بحث کرنے سے کنارہ کرتے اور حق الامر کو چھپاتے ہیں اور حق کو اس کے ظہور سے روکتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ حق کھل جائے ۔ آپ کو ڈرنا چاہیے ۔ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ الله کا مصداق نہ ہو جائیں۔ کیونکہ جس حالت میں آپ کے مقابل آنے سے حق کھلتا ہے اور آپ کوٹھری میں چھپے بیٹھے ہیں تو پھر آپ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللہ کے مصداق ہوئے یا کچھ اور ہوئے۔ پس آپ خدا تعالیٰ سے ڈ سے ڈریں اور بحث کے میدان میں آ کر یہ کوشش کریں کہ حق کھل جائے اور گریز اور فرار اختیار نہ کریں یا يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللہ کا مصداق نہ بن جائیں ۔ اور میں تو یا حضرت !! اس عظیم الشان بحث کے لیے حاضر ہوں اور ہر گز تخلف نہ کروں گا ۔ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ وَ صَدَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ اب میں یا حضرت؟!! پھر اللہ جل شانہ کی آپ کو قسم دے کر اس بحث کے لیے بلاتا ہوں جس جگہ چاہیں حاضر ہو جاؤں ، مگر تحریری بحث ہوگی تاکسی محرف کو تحریف کی گنجائش نہ ہو۔ اور ملک ہند کے تمام اہل نظر کو