مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 287
مجموعه اشتہارات ۲۸۷ جلد اول لیکن عوام کے مفسدانہ حملوں نے جو ایک ناگہانی طور پر کئے گئے ۔ اُس دن حاضر ہونے سے مجھے روک دیا۔ صد ہا لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ اس جلسہ کے عین وقت مفسد لوگوں کا اس قدر ہجوم میرے مکان پر ہو گیا کہ میں ان کی وحشیانہ حالت دیکھ کر اوپر کے زنانے مکان میں چلا گیا۔ آخر وہ اسی طرف آئے اور گھر کے کواڑ توڑ نے لگے اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ بعض آدمی زنانہ مکان میں گھس آئے اور ایک جماعت کثیر نیچے اور گلی میں کھڑی تھی جو گالیاں دیتے تھے اور بڑے جوش سے بد زبانی کا بخار نکالتے تھے۔ بڑی مشکل سے خدائے تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُن سے رہائی پائی اور سخت مدافعت کے بعد یہ بلا دفع ہوئی۔ ۔ اب ہر ایک منصف مزاج سمجھ سکتا ہے کہ اس بلوہ عوام کی حالت میں کیونکر میں گھر کو اکیلا چھوڑ کر جلسہ بحث میں حاضر ہو سکتا تھا۔ اب انصاف اور غور کا مقام ہے! کہ میرے جیسے مسافر کی دہلی والوں کو ایسی حالت میں ہمدردی کرنی چاہیے تھی نہ یہ کہ ایک طرف عوام کو ورغلا کر اور ان کو جوش وہ تقریریں سنا کر میرے گھر کے ارد گرد کھڑا کر دیا۔ اور دوسری طرف مجھے بحث کے لیے بلایا اور پھر نہ آنے پر جو موانع مذکورہ کی وجہ سے شور مچا دیا کہ وہ گریز کر گئے اور ہم نے فتح پائی۔ یہ کیسی اوباشانہ چال ہے!! کیا یہ انسانیت ہے!! کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ انہوں نے فتح پائی۔ کیا یہ مرغوں اور بٹیروں کی لڑائی تھی یا اظہار حق کے لیے بحث تھی! اگر ایمانداری پر اس جلسہ کی بنا ہوتی تو عذر معقول سُن کر خود دوسری تاریخ بحث مقرر کرنے کے لیے راضی ہو جاتے۔ اور میں نے اسی روز یہ بھی سنا کہ راہ میں بھی امن نہ تھا اور مقام تجویز کردہ بحث میں عوام کی حالت قابل اطمینان نہ تھی اور عین جلسہ میں مخالفانہ باتیں تہمت اور بہتان کے طور پر عوام کو سنا کر اُن کو بھڑ کا یا جارہا تھا، لیکن سب سے بڑھ کر جو بچشم خود صورت فساد دیکھی گئی وہ یہی تھی جو ابھی میں نے بیان کی ہے۔ اگر مولوی نذیر حسین صاحب کو یہ بلا پیش آتی تو کیا ان کی نسبت یہ کہنا جائز ہوتا کہ وہ بحث سے کنارہ کر گئے ۔ جس حالت میں یہ واقعات ایسے ہیں تو پھر کیسی بے شرمی کی بات ہے کہ اس غیر حاضری کو گریز پر حمل کیا جائے ۔اے حضرت خدا تعالیٰ سے ڈریں اور خلاف واقعہ منصوبوں کو فتحیابی کے پیرایہ میں مشہور نہ کریں !! اب میں بفضلہ تعالیٰ اپنی حفاظت کا انتظام کر