مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 286

مجموعه اشتہارات ۲۸۶ جلد اول طور پر ادھر ادھ مشہور کردیا اور اپنے دوستوں کوبھی خبر یں پہنچا دیں کہ ہم نے فتح پائی۔ ہم سے گریز کی۔ تاریخ مقررہ پر نہ آئے ۔ حیا شعبہ ایمان ہے۔ اگر بٹالوی صاحب کو دیانت اور راست بازی کا کچھ خیال ہوتا تو ایسی دروغ بے فروغ باتیں مشہور نہ کرتے ۔ یہ کس قدر مکر و فریب اور چالا کی ہے کہ سراسر بدنیتی سے ایک یک طرفہ اشتہار جاری کر دیا اور محض فرضی طور پر مشتہر کر دیا کہ فلاں تاریخ میں بحث ہوگی۔ اگر نیت نیک ہوتی تو چاہیے تھا کہ مجھ سے اتفاق کر کے یعنی میری اتفاق رائے سے تاریخ بحث مقرر کی جاتی تاکہ میں اپنے خانگی حفظ امن کے لیے انتظام کر لیتا۔ اور جس تاریخ میں حاضر ہو سکتا، اُسی تاریخ کو منظور کرتا اور نیز چاہیے تھا کہ پہلے امر قابل بحث صفائی سے طے ہو لیتا۔ غرض ضروری تھا کہ جیسا کہ مناظرات کے لیے دستور ہے فریقین کی اتفاق رائے اور دونوں فریق کے دستخط ہونے کے بعد اشتہار جاری کیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور یونہی اُڑا دیا گیا کہ جلسہ بحث میں حاضر نہیں ہوئے اور گریز کر گئے اور شیخ الکل صاحب سے ڈر گئے ۔ ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ یہ عاجز اسی غرض سے تو اپنا وطن چھوڑ کر دہلی میں غربت اور مسافرت کی حالت میں آ بیٹھا ہے تا شیخ الکل صاحب سے بحث کر کے ان کی دیانت وامانت اور ان کی حدیث دانی اور ان کی واقفیت قرآنی لوگوں پر ظاہر کر دیوے تو پھر ان سے ڈرنے کے کیا معنی؟ غور کرنے کا مقام ہے! کہ اگر یہ عاجز شیخ الکل سے ڈر کر ان کے یک طرفہ تجویز کردہ جلسہ بحث میں حاضر نہیں ہوا تو اب شیخ الکل صاحب کیوں بحث سے کنارہ کش ہیں اور کیوں اپنے اس علم اور معرفت پر مطمئن نہیں رہے جس کے جوش سے یک طرفہ جلسہ تجویز کیا گیا تھا۔ ہر یک منصف ان کے پہلے یک طرفہ جلسہ کی اصل حقیقت اسی سے سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ جلسہ صحت نیت پر مبنی پہلے یک طرفہ جلسہ کی اصل حقیقت اس سے سمجھ سکتا ہے تھا اور مکاری اور دھوکہ دہی کا کام نہیں تھا تو ان کا وہ پہلا جوش اب کیوں ٹھنڈا ہو گیا ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ یک طرفه جلسه محض شیخ بٹالوی کا ایک فریب حق پوشی کی غرض سے تھا جس کی واقعی حقیقت کھولنے کے لیے اب شیخ الکل صاحب کو بحث کے لیے بلایا جاتا ہے۔ یک طرفہ جلسہ میں حاضر ہونا اگرچہ میرے پر فرض نہ تھا کیونکہ میری اتفاق رائے سے وہ جلسہ قرار نہ پایا تھا۔ اور میری طرف سے ایک خاص تاریخ میں حاضر ہونے کا وعدہ بھی نہ تھا مگر پھر بھی میں نے حاضر ہونے کے لیے طیاری کرلی تھی،