مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 285
مجموعه اشتہارات ۲۸۵ جلد اول میرے ساتھ إِظْهَارًا لِلْحَقِّ بحث کیجیے۔ آپ کو اس بحث میں کچھ تکلیف نہیں ہوگی ۔ اگر کوئی عدالت گورنمنٹ برطانیہ کی کسی دنیوی مقدمہ میں آپ سے کسی امر میں اظہار لینا چاہے تو آپ جس قدر عدالت چاہے ایک مبسوط بیان لکھوا سکتے ہیں۔ بلکہ بلا توقف تاریخ مقررہ پر حاضر ہو جائیں گے۔ اور بڑی شد و مد سے اظہار دیں گے ۔ مَا شَاءَ اللہ درس قرآن وحدیث روز جاری ہے۔ آواز بلند ہے۔ طاقتیں قائم ہیں۔ اور آپ کو بوجہ تو غل زمانہ دراز کے احادیث نبویہ و قرآن کریم حفظ کی طرح یاد ہیں۔ کوئی محنت اور فکر سوچ کا کام نہیں۔ تو پھر خدائے تعالیٰ کی عدالت سے کیوں نہیں ڈرتے اور سچی شہادت کو کیوں پیٹ میں دبائے بیٹھے ہیں ؟ اور کیوں کچے عذر اور حیلے و بہانے کر رہے ہیں کہ بحث کرنے سے مجبور ہوں؟ شیخ محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد المجید میری طرف سے بحث کریں گے۔ حضرت مجھے آپ کا وہ خط دیکھ کر کہ میں بحث کرنا نہیں چاہتا دوسرں سے کرو، رونا آیا، کیسا زمانہ آ گیا کہ آج کل کے اکثر علماء فتنہ ڈالنے کے لیے تو آگے اور اصلاح کے کاموں میں پیچھے ہٹتے ہیں ۔ اگر ایسے نازک وقت میں آپ اپنے وسیع معلومات سے مسلمانوں کو فائدہ نہیں پہنچائیں گے تو کیا وہ معلومات آپ قبر میں لے جائیں گے؟ آپ بقول بٹالوی صاحب شیخ الکل ہیں ۔ شیخ الکل ہونے کا دعوی کچھ چھوٹا دعوی نہیں ۔ گویا آپ سارے جہاں کے مقتدا ہیں ۔ اور بٹالوی اور عبدالمجید جیسے آپ کے ہزاروں شاگرد ہوں گے۔ اگر بٹالوی صاحب کو ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ ساکت کر دیا جائے ۔ تو اس کا کیا اثر ہوگا ؟ وہ شیخ الکل تو نہیں۔ غرض دنیا کی آپ پر نظر ہے۔ یقیناً سمجھو کہ اگر آپ نے اس بارے بذات خود بحث نہ کی تو خدا تعالیٰ سے ضرور پوچھے جاؤ گے ۔ لبِ بام کی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ سے تو ۔ ڈرو۔ سفر آخرت بہت نزدیک ہے۔ اگر حق کو چھپاؤ گے تو رب منتقم کے اخذ شدید سے ہرگز نہیں بچو گے۔ آپ کو بٹالوی شیخ کے منصوبوں سے پر ہیز کرنا چاہیے۔ وہ حضرت اس فطرت کے ہی آدمی نہیں کہ جو آپ کو محض اللہ بحث کرنے کے لیے صلاح دیویں ۔ ہاں ایسے کام ان کو بخوبی آتے ہیں کہ فرضی لے خط بمطالعه گرامی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ۔ بعد سلام مسنون ۔ آپ کے خط دیروزہ کا جواب میری طرف سے میرے تلامذہ تلامذہ مولوی عبد المجید صاحب اور مولوی ابو سعید محمد حسین دیں ۔ دیں گے۔ آئندہ آپ مجھے اپنے جواب سے معاف رکھیں جو کچھ کہنا ہو انہیں سے کہیں اور ان ہی سے جواب لیں۔ راقم سید محمد نذیر حسین ۱۳ راکتو بر ۹۱ء میں