مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 270
مجموعه اشتہارات ۲۷۰ جلد اول ایک آسمانی روح ہے جو مجھے طاقت دے رہی ہے۔ پس جس نے نفرت کرنا ہے کرے۔ تا مولوی صاحب خوش ہو جائیں بخدا میری نظر ایک ہی پر ہے جو میرے ساتھ ہے۔ اور غیر اللہ ایک مرے ہوئے کیڑے کے برابر بھی میری نظر میں نہیں۔ کیا میرے لئے وہ کافی نہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ میں یقینا جانتا ہوں کہ وہ اس تبلیغ کو ضائع نہیں کرے گا جس کو لے کر میں آیا ہوں۔ مولوی صاحب جہاں تک ممکن ہے لوگوں کو نفرت دلانے کے لئے زور لگا لیں اور کوئی دقیقہ کوشش کا اُٹھا نہ رکھیں اور جیسا کہ وہ اپنے خطوط میں اور اپنے رسالہ میں اور اپنی تقریروں میں بار بار ظاہر کر چکے ہیں کہ یہ شخص نادان ہے، جاہل ہے، گمراہ ہے، مفتری ہے، دوکاندار ہے، بے دین ہے، کافر ہے، ایسا ہی کرتے رہیں اور مجھے ذرہ مہلت نہ دیں مجھے بھی اس ذات کی عجیب قدرتوں کے دیکھنے کا شوق ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ لیکن اگر کچھ تعجب ہے تو اس بات پر ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ عاجز مولوی صاحب کی نظر میں جاہل ہے بلکہ خط مذکورہ بالا میں یقینی طور پر مولوی صاحب نے لکھ دیا ہے کہ یہ شخص ملہم نہیں یعنی مفتری ہے اور یہ دعوئی جو اس عاجز نے کیا ہے مولوی صاحب کی نظر میں بدیہی البطلان ہے جس کا قرآن وحدیث میں کوئی اثر و نشان نہیں پایا جاتا۔ پھر مولوی صاحب پر ڈر اس قدر غالب ہے کہ آپ ہی بحث کے لئے بلاتے اور آپ ہی کنارہ کر جاتے ہیں۔ ناظرین کو معلوم ہوگا کہ مولوی صاحب نے ایک بڑے کروفر سے ۱۶ / اپریل ۱۸۹۱ ء کو تار بھیج کر اس عاجز کو بحث کے لئے بلایا کہ جلد آؤ اور آکر بحث کرو ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے۔ اُس وقت بڑی خوشی ہوئی کہ مولوی صاحب نے اس طرف رخ تو کیا۔ اور شوق ہوا کہ اب دیکھیں کہ مولوی صاحب حضرت مسیح ابن مریم کے زندہ مع الجسد اُٹھائے جانے کا کونسا ثبوت پیش کرتے ہیں یا بعد موت کے پھر زندہ ہو جانے کا کوئی ثبوت قرآن کریم یا حدیث صحیح سے نکالتے ہیں چنانچہ لدھیانہ میں ایک عام چرچا ہو گیا کہ مولوی صاحب نے بحث کے لئے بلایا ہے اور سیالکوٹ میں بھی مولوی صاحب نے اپنے ہاتھ سے خط بھیجے کہ ہم نے تار کے ذریعہ سے بلایا ہے۔ لیکن جب اس عاجز کی طرف سے بحث کے لئے تیاری ہوئی اور مولوی صاحب کو پیغام بھیجا گیا تو آپ نے بحث کرنے سے کنارہ کیا اور یہ عذر پیش کر دیا کہ جب تک ازالہ اوہام چھپ نہ