مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 269
مجموعه اشتہارات ۲۶۹ (۶۹) جلد اول ہمارے مخالف الرائے مولوی صاحبوں کا حوصلہ خدائے تعالیٰ نے پورے طور پر جلوہ قدرت دکھلانے کے لئے ایک ایسے نامی مولوی صاحب سے ہمیں ٹکرا دیا جن کی لیاقت علمی جن کی طاقت نہی جن کی طلاقت لسانی جن کی فصاحت بیانی شہرہ پنجاب و ہندوستان ہے اور خدائے حکیم و علیم کی مصلحت نے اس ناکارہ کے مقابل پر ایسا انہیں جوش شا اور اس درجہ کی بدظنی میں انہیں ڈال دیا کہ کوئی دقیقہ بدگمانی اور مخالفانہ حملہ کا انہوں نے رکھا۔ تا اس کا وہ امر خارق عادت ظاہر ہو جو اس نے ارادہ کیا ہے۔ مولوی صاحب نور اللہ کے بجھانے کے لئے بہت زور سے پھونکیں مار رہے ہیں۔ دیکھئے اب سچ سچ وہ نور بجھ جاتا ہے یا کچھ اور کرشمہ قدرت ظہور میں آتا ہے ۔ 9 اپریل ۱۸۹۱ء کے خط میں جو انہوں نے میرے ایک دوست مولوی سید محمد احسن صاحب کے نام بھوپال میں بھیجا تھا عجیب طور کے فقرات تحقیر کے استعمال کئے ہیں۔ آپ سید صاحب موصوف کو لکھتے ہیں کہ آپ اس شخص پر جلدی سے کیوں ایمان لے آئے اس کو ایک دفعہ دیکھ تو لیا ہوتا۔ مولوی صاحب نے اس فقرہ اور نیز ایک عربی کے فقرہ سے یہ ظاہر کرنا چاہا ہے کہ یہ شخص محض نالائق اور علمی اور عملی لیاقتوں سے بکلی بے بہرہ ہے اور کچھ بھی چیز نہیں۔ اگر تم دیکھو تو اس سے نفرت کرو۔ مگر بخدا یہ سچ اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ در حقیقت مجھ میں کوئی علمی اور عملی خوبی یا ذہانت اور دانشمندی کی لیاقت نہیں اور میں کچھ بھی نہیں۔ ایک غیب میں ہاتھ ہے جو مجھے تھام رہا ہے اور ایک پوشیدہ روشنی ہے جو مجھے منور کر رہی ہے اور