مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 257
مجموعه اشتہارات ۲۵۷ جلد اول ۔ هر یک راہ میں میری مدد کرے گا ۔ غرض میں بلا عذر ہر طرح سے حاضر ہوں۔ اور مباحثہ لاہور میں ہو کہ بقیہ حاشیہ ۔ تقریر اور تحریر نے کچھ اور طول پکڑا تو احتمال کیا بلکہ یقین کامل ہے کہ اہل اسلام علی العموم اپنے پرانے اور مشہور عقیدہ کو خیر باد کہہ دیں گے اور پھر اس صورت اور حالت میں حامیان دین متین کو سخت تر مشکل کا سامنا پڑے گا۔ ہم لوگوں نے جن کی طرف سے یہ درخواست ہے اپنی تسلی کے لیے خصوصاً اور عامہ اہل اسلام کے فائدہ کے لیے عموماً کمال نیک نیتی سے بڑی جدوجہد کے بعد ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مولوی حکیم نورالدین صاحب کے ساتھ (جو مرزا صاحب کے مخلص معتقدین میں سے ہیں ) مرزا صاحب کے دعاوی پر گفتگو کرنے کے لیے مجبور کیا تھا مگر نہایت ہی حیرت ہے کہ ہماری بدقسمتی سے ہمارے منشاء اور مدعا کے خلاف مولوی ابوسعید صاحب نے مرزا صاحب کے دعووں سے جو اصل مضمون بحث تھا قطع نظر کر کے غیر مفید امور میں بحث شروع کر دی۔ جس کا نتیجہ یہ یہ ہوا ہوا ک کہ مترددین کے شبہات کو اور تقویت ہو گئی اور زیادہ تر حیرت میں مبتلا ہو گئے ۔ اس کے بعد لودھیانہ میں مولوی ابوسعید صاحب کو خود مرزا صاحب سے بحث کرنے کا کا ا اتفاق ہوا ۔ تیراسی روز گفتگو ہوتی رہی۔ اس کا نتیجہ بھی ہمارے خیال میں وہی ہوا جو لاہور کی بحث سے ہوا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ تر مضر ۔ کیونکہ مولوی صاحب اس دفعہ بھی مرزا صاحب کے اصل دعاوی کی طرف ہرگز نہ گئے ۔ اگر چہ جیسا کہ سُنا گیا ہے اور پایہ اثبات کو بھی پہنچ گیا ہے۔ مرزا صاحب نے اثناء بحث میں بارہا اپنے دعووں کی طرف مولوی صاحب کو متوجہ کرنے کی سعی کی۔ چونکہ علماء وقت کے سکوت اور بعض بے سود تقریر و تحریر نے مسلمانوں کو علی العموم بڑی حیرت اور اضطراب میں ڈال رکھا ہے اور اس کے سوا ان کو اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنے امامان دین کی طرف رجوع کریں ۔ لہذا ہم سب لوگ آپ کی خدمت میں نہایت مؤدبانہ اور محض بنظر خیر خواہی برادرانِ اسلام درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس فتنہ وفساد کے وقت میدان میں نکلیں اور اپنی خداداد نعمت علم اور فضل سے کام لیں ! اور خدا کے واسطے مرزا صاحب کے ساتھ ان کے دعاوی پر بحث کر کے مسلمانوں کو ورطہ تذبذب سے نکالنے کی سعی فرما کر عند الناس مشکور وعنداللہ ماجور ہوں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ جن کی ذات پر مسلمانوں کو بھروسہ ہے خاص لاہور میں مرزا صاحب کے ساتھ ان کے دعوے میں بالمشافہ تحریری بحث کریں۔ مرزا صاحب سے اُن کے دعوی کا ثبوت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا جاوے یا ان کو اس قسم کے دلائل بینہ سے تو ڑا جاوے۔ ہماری رائے میں مسلمانوں کی تسلی اور رفع تردد کے واسطے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں۔ اگر آپ اس طریق بحث کو منظور فرماویں ( اور امید واثق ہے کہ آپ اپنا ایک اہم منصبی اور مذہبی فرض یقین کر کے محض ابتغاء لوجہ اللہ و ہدائے خلق اللہ ضرور قبول فرماویں گے ) تو اطلاع بخشیں تا کہ مرزا صاحب