مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 210
مجموعه اشتہارات ۲۱۰ ۵۲ جلد اول بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي گزارش ضروری بخدمت ان تمام صاحبوں کے جو بیعت کرنے کیلئے مستعد ہیں اے اخوان مومنین (أَيَّدَكُمُ اللَّهُ بِرُوحٍ مِنْهُ ) آپ سب صاحبوں پر جو اس عاجز سے خالصاً لطلب اللہ بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ واضح ہو کہ بالقائے ربّ کریم و جلیل جس کا ارادہ ہے کہ لے تاریخ ہذا سے جو ۴ مارچ ۱۸۸۹ ء ہے ۔ ۲۵ / مارچ تک یہ عاجز لود یا نہ محلہ جدید میں مقیم ہے اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لو دیانہ میں ۲۰ تاریخ کے بعد آ جاویں۔ اور اگر اس جگہ آنا موجب حرج و دقت ہو تو ۲۵ مارچ کے بعد جس وقت کوئی چاہے قادیان میں بعد اطلاع دہی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہو جاوے مگر جس مدعا کے لیے بیعت ہے یعنی حقیقی تقوی اختیار کرنا اور سچا مسلمان بننے کے لیے کوشش کرنا ، اس مدعا کو خوب یا درکھے اور اس وہم میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اگر تقویٰ اور سچا مسلمان بننا پہلے ہی سے شرط ہے تو پھر بعد اس کے بیعت کی کیا حاجت ہے۔ بلکہ یاد رکھنا چاہیے کہ بیعت اس غرض سے ہے کہ تا وہ تقویٰ جو اؤل حالت میں تکلف اور تصنع سے اختیار کی جاتی ہے دوسرا رنگ پکڑے اور ببرکت توجہ صادقین و جذ بہ کاملین طبیعت میں داخل ہو جائے اور اُس کا جز بن جائے اور وہ مشکوتی نور دل میں پیدا ہو جائے کہ جو عبودیت اور ربوبیت کے باہم تعلق شدید سے پیدا ہوتا ہے۔ جس کو متصوفین دوسرے لفظوں میں رُوحِ قدس بھی کہتے ہیں جس کے پیدا ہونے کے بعد خدائے تعاد ائے تعالیٰ کی نافرمانی ایسی بالطبع بری معلوم ہوتی ہے جیسے وہ خود خدائے تعالیٰ کی نظر میں بُری و مکروہ ہے۔ اور نہ صرف خلق اللہ سے انقطاع میسر آتا ہے بلکہ بجز خالق و مالک حقیقی ہر یک موجود کو کالعدم سمجھ کر فنا نظری کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ سو اس ٹور کے پیدا ہونے کے لیے ابتدائی اتقاء جس کو طالب صادق اپنے ساتھ لاتا ہے شرط ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی علت غائی