مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 211

مجموعه اشتہارات ۲۱۱ جلد اول مسلمانوں کو انواع و اقسام کے اختلافات اور غل اور حقداور نزاع اور فساد اور کینہ اور بغض سے جس نے ان کو بے برکت و نکما و کمزور کر دیا ہے۔ نجات دے کر فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ل کا مصداق بنادے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد و منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لیے مقدر ہیں۔ اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارکہ ایک کتاب میں بقید ولدیت و سکونت مستقل و عارضی اور کسی قدر کیفیت کے (اگر ممکن ہو ) اندراج پاویں۔ اور پھر جب وہ اسماء مندرجہ کسی تعداد موزوں تک پہنچ جائیں تو ان سب ناموں کی ایک فہرست تیار کر کے اور چھپوا کر ایک ایک کاپی اس کی تمام بیعت کرنے والوں کی خدمت میں بھیجی جاوے اور پھر جب دوسرے وقت میں نئی بیعت کرنے والوں کا ایک معتد بہ گروہ ہو جاوے تو ایسا ہی ان کے اسماء کی بھی فہرست تیار کر کے تمام مبائعین یعنی داخلین بیعت میں شائع کی جائے اور ایسا ہی ہوتا رہے جب تک ارادہ الہی اپنے اندازہ مقدرہ تک پہنچ جائے ۔ یہ انتظام جس کے ذریعہ سے راستبازوں کا گروہ کثیر ایک ہی سلک میں منسلک ہو کر وحدت مجموعی کے پیرائے میں خلق اللہ پر جلوہ نما ہوگا اور اپنی سچائی کے مختلف المخرج شعاعوں کو ایک ہی خط ممتد میں ظاہر کرے گا خدا وند عز و جل کو بہت پسند آیا ہے۔ مگر چونکہ کارروائی بجز اس کے بآسانی و صحت انجام پذیر نہیں ہو سکتی کہ خود مبائعین اپنے ہاتھ سے خوشخط قلم سے لکھ کر اپنا تمام پسته ونشان بتفصیل مند مندرجہ بالا بھیج دیں اس لیے ہر ایک صاحب کو جو صدق دل اور خلوص نام سے بیعت کرنے کے لیے مستعد ہیں تکلیف دی جاتی ہے کہ وہ تحریر خاص اپنی پورے پورے نام و ولدیت بقیہ حاشیہ۔ بیان کرنے میں فرمایا ہے ۔ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ۔ یہ نہیں فرمایا کہ هُدًى لِلْفَاسِقِينَ يَا هُدًى لِلْكَافِرِینَ ۔ ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے متقی کا لفظ انسان پر صادق آ سکتا ہے۔ وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولیٰ اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کا پہلا تولد ہے مگر وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ تامہ اور ربوبیت کا ملہ مستجمعہ کے پورے جوڑ واتصال سے بطرز ثُمَّ انْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیت ثانیہ ہے جس سے متقی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ر بوبیت ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم ہے جس سے متقی لا ہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور تولد ثالث پاتا ہے ۔ فَتَدَبَّرُ ـ منه ال عمران: ۰۴