مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 191

مجموعه اشتہارات ۱۹۱ جلد اول ا ضمیری اپنی فطرت میں رکھتے ہیں اور ہو نہار دکھائی دیتے ہیں مگر اس عالم بے ثبات پر رہنا نہیں پاتے اور کئی ایسے بچے بھی لوگوں نے دیکھے ہوں گے کہ اُن کے پچھن اچھے نظر نہیں آتے اور فراست حکم کرتی ہے کہ اگر وہ عمر پاویں تو پرلے درجے کے بدذات اور شریر اور جاہل اور ناحق شناس نکلیں۔ ابراہیم لخت جگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خوردسالی میں یعنی سولہویں مہینے میں فوت ہو گئے اس کی صفائی استعداد کی تعریفیں اور اس کی صدیقانہ فطرت کی صفت و ثنا احادیث کے رو سے ثابت ہے ایسا ہی وہ بچہ جو خورد سالی میں حضرت خضر نے قتل کیا تھا اُس کی خباثت جبلی کا حال قرآن شریف کے بیان سے ظاہر و باہر ہے کفار کے بچوں کی نسبت کہ جو خورد سالی میں مرجائیں جو کچھ تعلیم اسلام ہے وہ بھی در حقیقت اسی قاعدہ کی رو سے ہے کہ بوجہ اس کے کہ الْوَلَدُ سِرٌّ لَا بِيْهِ ان کی استعدادات ناقصہ ہیں غرض بلحاظ صفائی استعداد اور نورانیت اصل جو ہر و مناسبت تامہ دینے کے پسر متوفی کے الہام میں وہ نام رکھے گئے تھے جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں۔ اب اگر کوئی تحکم کی راہ سے کھینچ تان کر ان ناموں کو عمر دراز ہونے کے ساتھ وابستہ کرنا چاہے تو یہ اُس کی سراسر شرارت ہو گی جس کی نسبت کبھی ہم نے کوئی یقینی اور قطعی رائے ظاہر نہیں کیا۔ ہاں یہ سچ ہے اور بالکل سچ کہ ان فضائل ذاتیہ کے تصور کرنے سے شک کیا جاتا تھا کہ شاید یہی لڑکا مصلح موعود ہوگا ۔ مگر وہ شکی تقریر ہے جو کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع نہیں کی گئی ہندوؤں کی حالت پر سخت تعجب ہے کہ وہ با وصف اس کے کہ اپنے نجومیوں اور جوتشیوں کے منہ سے ہزار ہا ایسی باتیں سنتے ہیں کہ بالآخر وہ سراسر پوچ اور لغو اور جھوٹ نکلتی ہیں اور پھر ان پر اعتقاد رکھنے سے باز نہیں آتے اور عذر پیش کر دیتے ہیں کہ حساب میں غلطی ہوگئی ہے ورنہ جوتش کے سچا ہونے ردیتے کہ میں ورنہ کے۔ میں کچھ کلام نہیں ۔ پھر با وصف ایسے اعتقادات سخیفہ اور ردیہ کے الہامی پیشگوئیوں پر بغیر کسی صریح اور صاف غلطی پکڑنے کے متعصبانہ حملہ کرتے ہیں پھر ہندو لوگ اگر ایسی بے اصل باتیں منہ پر لاویں تو کچھ مضائقہ بھی نہیں کیونکہ وہ دشمن دین ہیں اور اسلام کے مقابل پر ہمیشہ سے اُن کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے یعنی جھوٹ وافتر الیکن نہایت تعجب میں ڈالنے والا واقعہ مسلمانوں کی حالت ہے کہ باوجود دعوئی دینداری و پرہیزگاری اور باوجود عقائد اسلامیہ کے ایسے ہذیانات زبان پر لاتے ہیں اگر