مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 190

مجموعه اشتہارات ۱۹۰ جلد اول تحریرات کا کوئی کافی وقانونی ثبوت بھی ہے یا ناحق بار بار اپنے نفس امارہ کے جذبات لوگوں پر ظاہر کر رہے ہیں اور اس جگہ بعض نادان مسلمانوں کی حالت پر بھی تعجب ہے کہ وہ کس خیال پر وساوس کے دریا میں ڈوبے جاتے ہیں۔ کیا کوئی اشتہار ہمارا اُن کے پاس ہے کہ جو اُن کو یقین دلاتا ہے کہ ہم اس لڑکے کی نسبت الہامی طور پر قطع کر چکے تھے کہ یہی عمر پانے والا اور مصلح موعود ہے۔ اگر کوئی ایسا اشتہار ہے تو کیوں پیش نہیں کیا جاتا۔ ہم اُن کو باور دلاتے ہیں کہ ایسا اشتہار ہم نے کوئی شائع نہیں کیا۔ ہاں خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہو گیا ہے ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دنیوی جذبات بکلی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی روح اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا نام باران رحمت اور مبشر اور بشیر اور يَدُ اللهِ بِجَلَالٍ وَجَمَالٍ وغیرہ اسماء بھی ہیں۔ سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اُس کی صفات ظاہر کیں یہ سب اُس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں جن کے لئے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں ۔ اس عاجز کا مدلل اور معقول طور پر یہ دعوی ہے کہ جو بنی آدم کے بچے طرح طرح کی قوتیں لے کر اس مسافر خانہ میں آتے ہیں خواہ وہ بڑی عمر تک پہنچ پر جائیں اور خواہ وہ خورد سالی میں ہی فوت ہو جائیں اپنی فطرتی استعدادات میں ضرور باہم متفاوت ہوتے ہیں اور صاف طور پر امتیاز بین ان کی قوتوں اور خصلتوں اور شکلوں اور ذہنوں میں دکھائی دیتا ہے جیسا کہ کسی مدرسہ میں اکثر لوگوں نے بعض بچے ایسے دیکھے ہوں گے جو نہایت ذہین اور فہیم اور تیز طبع اور زود فہم ہیں اور اورعلم علم کو کو ایسی جلدی سے حاصل کرتے ہیں کہ گویا جلدی سے ایک صف لپیٹتے جاتے ہیں لیکن اُن کی عمر وفا نہیں کرتی اور چھوٹی عمر میں ہی مر جاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ نہایت نبی اور بلید اور انسانیت کا بہت کم حصہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور منہ سے رال ٹپکتی ہے اور وحشی سے ہوتے ہیں اور بہت سے بوڑھے اور پیر فرتوت ہو کر مرتے ہیں اور باعث سخت نالیاقتی فطرت کے جیسے آئے ویسے ہی جاتے ہیں غرض ہمیشہ اس کا نمونہ ہر ایک شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ بعض بچے ایسے کامل الخلقت ہوتے ہیں کہ صدیقوں کی پاکیزگی اور فلاسفروں کی دماغی طاقتیں اور عارفوں کی روشن