مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 192

مجموعه اشتہارات ۱۹۲ جلد اول ہمارے ایسے اشتہارات ان کی نظر سے گزرے ہوتے جن میں ہم نے قیاسی طور پر پسر متوفی کو مصلح موعود اور عمر پانے والا قرار دیا ہوتا۔ تب بھی ان کی ایمانی سمجھ اور عرفانی واقفیت کا مقتضا یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ ایک اجتہادی غلطی ہے کہ جو کبھی کبھی علماء ظاہر و باطن دونوں کو پیش آ جاتی ہے یہاں تک کہ اولوالعزم رسول بھی اُس سے باہر نہیں ہیں مگر اس جگہ تو کوئی ایسا اشتہار بھی شائع نہیں ہوا تھا محض دریا ندیده موزه از پا کشیدہ پر عمل کیا گیا اور یادر ہے کہ ہم نے یہ چند سطریں جو عام مسلمانوں کی نسبت لکھی ہیں محض سچی ہمدردی کے تقاضا سے تحریر کی گئی ہیں تا وہ اپنے بے بنیا دو ساوس سے باز آ جائیں اور ایسار دی اور فاسد اعتقاد دل میں پیدا نہ کر لیں جس کا کوئی اصل صحیح نہیں ہے بشیر احمد کی وفات پر انہیں میں پڑنا نہیں کی ہے بھی نادانی ظاہر کرنا ہے ورنہ کوئی محل آویزش ونکتہ چینی نہیں ۔ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ہم نے کوئی اشتہار نہیں دیا جس میں ہم نے قطع اور یقین ظاہر کیا ہو کہ یہی لڑکا اور مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے اور گو ہم اجتہادی طور پر اس کی ظاہری علامات سے کسی قدر اس خیال کی طرف جھک بھی گئے تھے مگر اسی وجہ سے اس خیال کی کھلے کھلے طور پر بذریعہ اشتہارات اشاعت نہیں کی گئی تھی کہ ہنوز یہ امر اجتہادی ہے اگر یہ اجتہاد صیح نہ ہوا تو عوام الناس جو دقائق و معارف علم الہی سے محض بے خبر ہیں وہ دھوکا میں پڑ جائیں گے۔ مگر نہایت افسوس ہے کہ پھر بھی عوام کالانعام دھوکا کھانے سے باز نہیں آئے اور اپنی طرف سے حاشیے چڑھا لئے انہیں اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں کہ ان کے اعتراضات کی بنا صرف یہ وہم ہے کہ کیوں اجتہادی غلطی وقوع میں آئی ۔ ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ اول تو کوئی ایسی اجتہادی غلطی ہم سے ظہور میں نہیں آئی جس پر ہم نے قطع اور یقین اور بھروسہ کر کے عام طور پر اس کو شائع کیا ہو پھر بطور تنزل ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اگر کسی نبی یا ولی سے کسی پیش گوئی کی تشخیص و تعیین میں کوئی غلطی وقوع میں آجائے تو کیا ایسی غلطی اس کے مرتبہ نبوت یا ولایت کو کچھ کم کر سکتی ہے یا گھٹا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ سب خیالات نادانی و ناواقفیت کی وجہ سے بصورت اعتراض پیدا ہوتے ہیں چونکہ اس زمانہ میں جہالت کا انتشار ہے اور علوم دینیہ سے سخت درجہ کی لوگوں کولا پروائی ہے اس وجہ سے سیدھی بات بھی الٹی دکھائی دیتی ہے ورنہ یہ مسئلہ بالا تفاق مانا گیا اور قبول