مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 189

مجموعه اشتہارات ۱۸۹ جلد اول روشن ضمیر پیرو ہرگز ان غلطیوں سے حیرت و سرگردانی میں نہیں پڑے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ غلطیاں نفس الهامات و مکاشفات میں نہیں ہیں بلکہ تاویل کرنے میں غلطی وقوع میں آگئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں اجتہادی غلطی علماء ظاہر و باطن کی اُن کی کسر شان کا موجب نہیں ہو سکتی اور ہم نے کوئی ایسی اجتہادی غلطی بھی نہیں کی جس کو ہم قطعی ویقینی طور پر کسی اشتہار کے ذریعہ سے شائع کرتے تو کیوں بشیر احمد کی وفات پر ہمارے کو تہ اندیش مخالفوں نے اس قدر زہرا گلا ہے کیا اُن کے پاس ان بقیہ حاشیہ دنیوی زندگی اور کامیابی اور خوشحالی کے متعلق انجیل میں دی ہیں وہ بھی بظاہر نہایت سہل اور آسان طریقوں سے اور جلد تر حاصل ہونے والی معلوم دیتی تھیں۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کے مبشرانہ الفاظ سے جو ابتدا میں اُنہوں نے بیان کئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا اُسی زمانہ میں ایک زبردست بادشاہی ان کی قائم ہونے والی ہے۔ اسی حکمرانی کے خیال پر حواریوں نے ہتھیار بھی خرید لئے تھے کہ حکومت کے وقت کام آویں گے۔ ایسا ہی حضرت مسیح کا دوبارہ اترنا بھی جناب ممدوح نے خود اپنی زبان سے ایسے الفاظ سے بیان فرمایا تھا جس سے خود حواری بھی یہی سمجھتے تھے کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ فوت نہیں ہوں گے اور نہ حواری پیالہ اجل پیئیں گے کہ جو حضرت مسیح پھر اپنی جلالت اور عظمت کے ساتھ دنیا میں تشریف لے آئیں گے اور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا خیال اور رائے اُسی پیرایہ کی طرف زیادہ جھکا ہوا تھا کہ جو انہوں نے حواریوں کے ذہن نشین کیا جو اصل میں صحیح نہیں تھا یعنی کسی قدر اس میں اجتہادی غلطی تھی اور عجیب تریہ کہ بائیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی اور وہ غلط نکلی یعنی بجائے فتح کے شکست ہوئی ۔ دیکھو سلاطین اول باب ۲۲ آیت ۱۹ مگر اس عاجز کی کسی پیشگوئی میں کوئی الہامی غلطی میں کوئی الہامی غلطی نہیں۔ الہام نے پیش از وقوع دولڑکوں کا پیدا ہونا ظاہر کیا اور بیان کیا کہ بعض لڑکے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے دیکھو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء واشتہار ۱۰ ر جولائی ۱۸۸۸ء سو مطابق پہلی پیشگوئی کے ایک لڑکا پیدا ہو گیا اور فوت بھی ہو گیا اور دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے ۔ وہ اگر چہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔ زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔ نادان اس کے الہامات پر ہنستا ہے اور احمق اس کی پاک بشارتوں پر ٹھٹھا کرتا ہے کیونکہ آخری دن اس کی نظر سے ا پوشیدہ ہے۔ اور انجام کار اس کی آنکھوں سے چھپا ہوا ہے ۔ منہ ۔