مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 182
مجموعه اشتہارات ۱۸۲ جلد اول حکموں کو ایسا ہلکا سا سمجھ کر ٹال دیتے ہیں جیسا کوئی ایک تنکے کو اُٹھا کر پھینک دے۔ وہ اپنی بدعتوں اور رسموں اور ننگ و ناموس کو خدا اور رسول کے فرمودہ سے ہزار درجہ بہتر سمجھتے ہیں ۔ پس خدا تعالیٰ نے انہیں کی بھلائی کے لیے انہیں کے تقاضا سے، انہیں کی درخواست سے اس الہامی پیشگوئی کو جو اشتہار میں درج ہے، ظاہر فرمایا ہے تا وہ سمجھیں کہ وہ در حقیقت موجود ہے اور اس کے سوا سب کچھ بیچ ہے۔ کاش وہ پہلے نشانوں کو کافی سمجھتے اور یقیناً وہ ایک ساعت بھی مجھ پر بد گمانی نہ کر سکتے ۔ اگر ان میں کچھ نور ایمان اور کانشنس ہوتا ہمیں اس رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی ۔ سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا۔ اولاد بھی عطا کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ ہوگا ۔ بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا جس کا نام محمود احمد ہوگا۔ اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔ پس یہ رشتہ دار جس کی درخواست کی گئی ہے۔ محض بطور نشان کے ہے تا خدا تعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو انجو بہ قدرت دکھلاوے۔ اگر وہ قبول کریں تو برکت اور رحمت کے نشان ان پر نازل کرے اور اُن بلاؤں کو دفع کر دیوے جو نزدیک چلی آتی ہیں لیکن اگر وہ رڈ کریں تو اُن پر قہری نشان نازل کر کے ان کو متنبہ کرے ۔ بقیہ حاشیہ پیشگوئی کہ جو اشتہار ۲۰ مارچ ۱۸۸۸ء میں مفصل درج ہے پوری ہوئی تو نظام الدین کے دل پر اس کا ذرہ بھی اثر نہ پڑا۔ اور نہ اس قادر مطلق کی طرف تو بہ اور استغفار سے رجوع کیا جو گناہوں کو معاف کرتا اور مصیبتوں کو دور کرتا اور عاجز بندوں پر رحم فرماتا ہے ۔ منہ لے اُن کا اس رشتہ سے بشدت انکار بھی در حقیقت اسی اپنی رسم پرستی کی وجہ سے ہے کہ وہ اپنی کسی لڑکی کا اس کے کسی غیر حقیقی ماموں سے نکاح کرنا حرام قطعی سمجھتے ہیں اور اگر سمجھایا جائے تو بے دھڑک کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں اسلام اور قرآن سے کچھ غرض واسطہ نہیں۔ سو خدا تعالیٰ نے نشان بھی انہیں ایسا دیا جس سے ان کے دین کے ساتھ ہی اصلاح ہو اور بدعت اور خلاف شرع رسم کی بیخ کنی ہو جائے تا آئندہ اس قوم کے لیے ایسے رشتوں کے بارے میں کچھ تنگی اور حرج نہ رہے۔ منہ