مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 171

مجموعه اشتہارات ۱۷۱ جلد اول فتح مسیح نے پادری صاحب کے نام یہ چٹھی نہیں لکھی تھی کہ میں نے بالمقابل الہامی ہونے کا دعوی کر دیا ہے۔ اب انصافاً سوچنا چاہیے کہ جس شخص کے مادہ میں اس قد ر جھوٹ بھرا ہوا ہے کہ وہ اس منصب کے لائق ہے کہ عیسائی کلیسیا کی طرف سے دوسروں کے لیے واعظ ٹھہرے۔ پادری وائٹ برینٹ صاحب اس شخص کی دروغ گوئی کو خوب جانتے ہیں اور حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم نے اپنے اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۸۸ء میں صاف لکھ دیا کہ آئندہ ہم ایسے ایسے دروغ گویوں کو مخاطب بنانا نہیں چاہتے ۔ ہاں اگر پادری وائٹ برینٹ صاحب صاف طور پر جلسہ عام میں اقرار کر دیں کہ الہامی طاقت عیسا ، عیسائی گروہ سے مسلوب ہے اور پھر ہم سے کوئی الہامی پیشگوئی پیش از وقوع طلہ طلب کرنا چاہیں تو ہم بدیں شرط جلسہ عام میں پیش کریں گے کہ اگر ہماری پیشگوئی پیش کرده بنظر حاضرین جلسه صرف انکل اور اندازہ ہو، انسانی طاقتوں سے بالاتر نہ ہو یا بالآخر جھوٹی نکلے تو دو سو روپیہ ہرجانہ پادری صاحب کو دیا جائے گا ورنہ بصورت دیگر پادری صاحب کو مسلمان ہونا پڑے گا، لیکن پادری صاحب نے ایسے جلسہ میں آنا قبول نہ کیا۔ اور صاف گریز کر گئے اور کوہ شملہ پر چلے گئے ۔ حالانکہ ہم انہیں کے لیے ایک ماہ تک برابر بٹالہ میں ٹھہرے۔ غرض انہوں نے تو ہمارے مقابل پر دم بھی نہ مارا۔ لیکن اُسے میاں فتح مسیح نے سر جون ۱۸۸۸ء کے اخبار نور افشاں میں چھپوا دیا ہے کہ اس طور پر تحقیق الہامات کے لیے جلسہ کر سکتے ہیں کہ ایک جلسہ منعقد ہو کر چار سوال بند کاغذ میں حاضرین جلسہ میں سے کسی کے ہاتھ میں دے دیں گے وہ ہمیں الہا ما بتلائے جائیں ۔ اس کے جواب میں اوّل تو یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ جیسا کہ ہم اپنے اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۸۸ء میں لکھ چکے ہیں ۔ فتح مسیح جس کی طینت میں دروغ ہی دروغ ہے۔ ہرگز مخاطب ہونے کے لائق نہیں ۔ اور اس کو مخاطب بنانا اور اس کے مقابل پر جلسہ کرنا ہر ایک راست باز کے لیے عار و ننگ ہے۔ ہاں اگر پادری وائٹ برینٹ صاحب ایسی درخواست کریں کہ جو نورافشاں رافشاں ۷رجون ۱۸۸۸ء کے صفحہ ے میں درج ہے تو ہمیں بسر و چشم منظور ہے۔ ہمارے ساتھ وہ خدائے قادر و علیم ہے جس سے عیسائی لوگ ناواقف ہیں ۔ وہ پوشیدہ بھیدوں کو جانتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے جو اس کے خالص بندے ہیں لیکن لہو ولعب کے طور پر اپنا نام لینا پسند نہیں کرتا۔ پس اگر