اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 163

اِعجاز المسیح — Page 69

اعجاز المسيح ۶۹ اردو ترجمہ الرحمن و الرحيم في هذه الآية اور الرَّحِيم ہیں ۔ پس ان میں سے ہر ایک نام المباركة۔ فإن كل واحد منها اس کی خصوصیات اور مخفی کیفیات پر دلالت کرتا يدل على خصائصه وهويته المكتومة۔ والله اسم للذات ہے ۔ اللہ اُس ذات الہی کا نام ہے جو تمام کمالات الإلهية الجامعة لجميع أنواع کی جامع ہے اور رحمان اور رحیم دونوں دلالت الكمال۔ والرحمن والرحیم کرتے ہیں کہ یہ دونوں صفتیں متحقق ہیں اس نام يدلان على تحقق هاتين الصفتين کے لئے جو ہر قسم کے جمال اور جلال کا جامع لهذا الاسم المستجمع لكل نوع الجمال والجلال ۔ ثم للرحمن ہے۔ پھر الرحمن کے معنی جو خاص طور پر اسی معنى خاص يختص به ولا يوجد سے مخصوص ہیں اور الرَّحِیم میں نہیں پائے جاتے في الرحيم۔ وهو أنه مفيض اور وہ یہ ہیں کہ خدائے کریم کے اذن سے صفت رحمن لوجود الإنسان وغيره من وجو د انسان اور دیگر حیوانات کو قدیم زمانہ سے الحيوانات بإذن الله الكريم۔ بحسب ما اقتضى الحكم الإلهية حکمتِ الہیہ کے اقتضاء اور جو ہر قابل کی قابلیت کے من القديم۔ وبحسب تحمل مطابق فیضان پہنچارہا ہے نہ کہ مساوی تقسیم کے ط طور 91 القوابل لا بحسب تسوية پر ۔ اس صفت رحمانیت میں کسی انسانی یا حیوانی التقسيم۔ وليس في هذه الصفة الرحمانية دخل كسب وعمل قوی کے کسب ، عمل اور کوشش کا کوئی دخل نہیں ۔ وسعي من القوى الإنسانية بلكہ يہ محض اللہ کا احسان ہے جس سے پہلے عمل أو الحيوانية۔ بل هي منة من الله کرنے والے کا عمل موجود نہیں ۔ یہ اُس کی جناب خاصة ما سبقها عمل عامل سے اُس کی رحمتِ عامہ ہے کسی ناقص یا کامل شخص ورحمته من لدنه عامة ما مسها کی کسی سعی کا نتیجہ نہیں ۔ حاصل کلام یہ کہ صفت أثر سـعـي مـن ناقص أو كامل۔ فالحاصل أن فيضان الصفة رحمانیت کا فیضان کسی عمل کا نتیجہ اور کسی