اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 163

اِعجاز المسیح — Page 112

اعجاز المسيح ۱۱۲ اردو ترجمہ أرفع من الخيالات۔ وأبعد من گنه خیالات سے ارفع اور قیاسات سے بعید تر القياسات۔ وإذا قلت محمد ہے۔ اور جب آپ مُحَمَّدٌ رَّسُول اللہ کہتے ہیں رسول الله فمعناه أن محمدًا وخليفتها في الكمالات۔ ومتمم صلى الله تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ محمد علیہ اس ذات مظهر صفات هذه الذات باری تعالیٰ کی صفات کا مظہر اور کمالات میں اُس کے جانشین اور دائرۂ ظلیت کو مکمل کرنے والے دائرة الظلية وخاتم الرسالات۔ ۱۴۷ فحاصل ما أبصر وأرى۔ أن نبينا اور خاتم رسالت ہیں۔ میری بصیرت اور مشاہدہ کا خير الورى۔ قدورت صفتی حاصل یہ ہے کہ ہمارے نبی خیر الوریٰ ہمارے ربنا الأعلى۔ ثم ورث الصحابة رب اعلی کی ان دونوں صفات ( رحمن اور رحیم ) الحقيقة المحمدية الجلالية کے وارث ہیں اور آپ کے بعد جیسا کہ میرے كما عرفت فيما مضى۔ وقد گزشتہ بیان سے آپ جان چکے ہیں آپ کے رض سلم سيفهم في قطع دابر صحابه حقیقت محمدیہ جلالیہ کے وارث المشركين۔ ولهم ذكر لا ہوئے اور اُن کی تلوار مشرکوں کے قلع قمع کرنے ينسى عند عبدة المخلوقين۔ وإنهم أدوا حق صفة میں مسلم ہے۔ اُن کی یاد مخلوق کے پجاری فراموش المحمدية۔ وأذاقوا كثيرا من نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے صفت محمد بیت کا حق ادا الأيدى الحربية۔ وبقيت بعد کر دیا اور اپنے جنگی کا کارناموں سے بہتوں کو بہتوں کو خوب ذالك صفة الأحمدية التي مزا چکھایا ۔ اس کے بعد باقی رہی صفت احمد بیت ۱۴۸ مصبغة بالألوان الجمالية۔ جو جمالی رنگوں میں رنگین اور محبیت کی آگ محرقة بالنيران المُحبّية۔ میں سوختہ ہے۔ سوسیح موعود اس صفت (احمد بیت ) فورثها المسيح الذي بعث في کا وارث ہوا، جو ذرائع ( ترقی ) کے خاتمہ، دشمنوں زمن انقطاع الأسباب۔ وتكسر الملة من الأنياب۔ وفقدان کی کچلیوں وں سے ملّت کی بربادی ، مددگاروں اور الأنصار والأحباب ۔ وغلبة دوستوں کے معدوم ہونے ، دشمنوں کے غلبہ اور الأعداء وصول الأحزاب۔ لیری مخالف جماعتوں کے حملے کے وقت مبعوث کیا گیا