اِعجاز المسیح — Page 111
اعجاز المسيح اردو ترجمہ زمن البركات ۔ ثم اعلم أن هذه کا زمانہ ہے ۔ پھر تو جان لے کہ یہ آیات خالق ۱۴۵ الآيات قد وقعت كحد مُعَرِّف کائنات اللہ کی معرفت دلانے والی حد کی طرح واقع لله خالق الكائنات۔ وإن كان الله تعالى ذاته عن التحديدات۔ ہوئی ہیں۔ اگر چہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر حدوبست سے ومن هذا التعليم والإفادة۔ بالاتر ہے۔ اس سے ہے۔ اس تعلیم وافادہ سے کلمہ شہادت کا مفہوم يتضح معنى كلمة الشهادة۔ واضح ہو جاتا ہے جو ایمان اور سعادت کا مدار التي هي مناط الإيمان ہے۔ ان صفات کی وجہ - وجہ سے اللہ اطاعت کا مستحق استحق الله الطاعة وخُص اور عبادت کے لئے مخصوص ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ بالعبادة ۔ فإنه ينزل هذه وہی ان فیوض کو بالا رادہ نازل فرماتا ہے۔ کیونکہ والسعادة ۔ وبهذه الصفات الفيوض بالإرادة۔ فإنك إذا جب آپ لا اله الا اللہ کہیں تو اہل دانش کے قلت لا إله إلا الله فمعناه عند ذوى الحصات۔ أن العبادة لا نزدیک اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نر و مادہ میں سے يجوز لأحد من المعبودين أو کسی بھی ہستی کی عبادت جائز نہیں سوائے اُس المعبودات۔ إلا لذات غير معبود حقیقی کی ذات کے جس کا ادراک ممکن نہیں مدركة مستجمعة لهذه الصفات ۔ أعنى الرحمانية والرحيمية اللتين هما أوّل شرط لموجود مستحق اور جوان صفات یعنی رحمانیت اور رحیمیت کی صفات کا جامع ہے۔ یہ دونوں صفات عبادات کے مستحق وجود کی شرط اول ہیں ۔ پھر تم یہ بھی جان للعبادات۔ ثم اعلم أن الله اسم لوله الله اسم جامد ہے۔ اس کی حقیقت کا ادراک جامد لا تدرك حقيقته لأنه نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے کہ یہ اسم ذات ہے اور وہ اسم الذات۔ والذات ليست من ذات محسوسات سے نہیں ۔ اور لفظ اللہ کو مشتق المدركات۔ وكل ما يُقال في معناه فهو من قبيل الأباطيل قرار دے کر جو کچھ بھی کہا جاتا ہے وہ از قسم والخزعبيلات۔ فإن كُنه البارئ جھوٹ اور خرافات ہے۔ کیونکہ باری تعالیٰ کی ۱۴۶