اِعجاز المسیح — Page 109
اعجاز المسيح ۱۰۹ اردو ترجمہ مطمئنة۔ وأنزل عليهم سكينة نقول مطمئنہ عطا کئے۔ اور ان پر دائمی سکینت نازل دائمة۔ ثم أراد أن يريهم نموذج فرمائی ۔ پھر اس نے ارادہ فرمایا کہ انہیں ملک مالك يوم الدين۔ فوهب لهم يَوْمِ الدِّینِ کا نمونہ دکھائے تو اس نے انہیں الملك والخلافة والحَقَ أعداء هم بادشاہت اور خلافت عطا کی اور اُن کے دشمنوں کو بالهالكين۔ وأهلك الكافرين ہلاک ہونے والوں سے ملا دیا۔ کافروں کو ہلاک وأزعجهم إزعاجًا ۔ ثم أرى نموذج النشور فأخرج من کیا اور اُن کی بیخ کنی کی ۔ پھر حشر کا نمونہ دکھایا اور القبور إخراجا۔ فدخلوا في دين اُنہیں قبروں سے نکالا اور وہ اللہ کے دین میں فوج الله أفواجًا ۔ وبدروا إليه فرادى در فوج داخل ہو گئے ۔ فرداً فردا اور گروہ در گروہ اس وأزواجًا ۔ فرأى الصحابة أمواتا کی طرف دوڑے۔ پس صحابہؓ نے مردوں کو زندگی يلفون حياة ورأوا بعد المحل پاتے اور خشک سالی کے بعد موسلا دھار بارش ہوتے ماء اتجاجًا۔ وسمى ذالك دیکھا اور اس زمانے کا نام يَوْمِ الدِّينِ رکھا الزمان يوم الدين۔ لأن الحق گیا کیونکہ اس میں حق ظاہر ہو گیا۔ اور کافروں کی حصحص فيه ودخل في الدين أفواج من الكافرين۔ ثم أراد أن فوجیں دین میں داخل ہو گئیں ۔ پھر اُس نے ارادہ (۱۳۳) يرى نموذج هذه الصفات في فرمایا کہ وہ اُمت کے آخرین میں بھی ان صفات کا آخرين من الأمة۔ ليكون آخر نمونہ دکھائے۔ تا کہ ملت کا آخر بھی کیفیت میں الملة كمثل أولها في الكيفية۔ و اُس کے اول کی طرح ہو جائے اور تاکہ سابقہ امتوں ليتم أمر المشابهة بالأمم کے ساتھ ان کی مشابہت پوری ہو جائے ۔ جیسا کہ السابقة، كما أشير إليه في هذه اس سورت میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے یعنی دو السورة ۔ أعنى قوله صراط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ، فتدبر اُس کے قول صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ ألفاظ هذه الآية۔ وسمّى زمان عَلَيْهِمْ میں۔ لہذا اس آیت کے الفاظ پر غور کر مسیح المسيح الموعود يوم الدين موعود کے زمانے کو يَوْمِ الدِّینِ کا نام دیا گیا۔ ا (الفاتحة :)