اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 163

اِعجاز المسیح — Page 105

اعجاز المسيح ۱۰۵ اردو ترجمہ ربوبية الحضرة۔ ثم إن فيض کے تحت آتے ہیں۔ پھر ربوبیت کا فیض ہر اس فیض الربوبية أعم وأكمل وأتم من سے جس کا دلوں میں تصور کیا جا سکے یا جس کا ذکر كل فيض يُتَصَوِّرُ في الأفئدة۔ أو زبانوں پر جاری ہو زیادہ وسیع ، زیادہ کامل اور زیادہ يجرى ذكره على الألسنة۔ ثم بعده فيض عام وقد خُص جامع ہے۔ پھر اس کے بعد فیض عام ہے جو حیوانی بالنفوس الحيوانية والإنسانية۔ اور انسانی نفوس کے ساتھ مختص ہے اور وہ صفت وهو في صفة الرحمانية۔ رحمانیت کا فیض ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر اپنے وذكره الله بقوله الرحمن قول الرحمن میں کیا ہے۔ اور اُسے جمادی اور نباتی وخصه بذوى الروح من دون اجسام کو چھوڑ کر صرف جاندار چیزوں سے وابستہ الأجسام الجمادية والنباتية۔ ثم بعد ذالك فيض خاص وهو کیا۔ اس کے بعد ایک فیض خاص ہے اور وہ صفت فيض صفة الرحيمية۔ ولا ينزل رحيميت کا فیض ہے اور یہ فیض صرف اُس نفس هذا الفيض إلا على النفس التي پر نازل ہوتا ہے جو متوقع فیوض کے حصول کے لئے سعى سعيها لكسب الفیوض پوری کوشش کرتا ہے۔اس لئے یہ فیض ان لوگوں المترقبة۔ ولذالك يختص سے خاص ہے جو ایمان لاتے اور رب کریم کی ۱۳۷ بالذين آمنوا وأطاعوا ربًّا كريمًا۔ كما صرح في قوله تعالى اطاعت کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام " وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا لے میں صراحت فثبت بنص القرآن أن الرحيميّة کی گئی ہے۔ پس نص قرآن سے ثابت ہو گیا کہ مخصوصة بأهل الإيمان۔ وأما رحيميت اہل ایمان کے ساتھ مخصوص ہے مگر الرحمانية فقد وسعت كل رحمانیت کا دائرہ جانداروں میں سے ہر جاندار حيوان من الحيوانات۔ حتى ان الشيطان نال نصيبا منها بأمر پر وسیع ہے۔ یہاں تک کہ شیطان نے بھی حضرت حضرة ربّ الكائنات۔ رب کائنات کے حکم سے اس میں سے حصہ پایا۔ لے اور وہ مومنوں کے حق میں بار بار رحم کرنے والا ہے۔ (الاحزاب : ۴۴)