اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 163

اِعجاز المسیح — Page 106

اعجاز المسيح ١٠٦ اردو ترجمہ وحاصل الكلام ان الرحيمية حاصل کلام یہ کہ رحیمیت کا تعلق ان فیوض تتعلق بـفـيــوض تترتب على الأعمال۔ ويختص بالمؤمنين سے ہے جو اعمال پر مترتب ہوتے ہیں اور یہ من دون الكافرين وأهل کافروں اور گمراہوں کو چھوڑ کر صرف مؤمنوں سے الضلال۔ ثم بعد الرحيمية فيض خاص ہے۔ پھر رحیمیت کے بعد ایک اور فیض آخر وهو فيض الجزاء الا تم ۱۳۸ والمكافات۔ وإيصال الصالحين بھی ہے جو جزاء کامل اور مکافات اور نیک لوگوں کو إلى نتيجة الصالحات اُن کی نیکیوں اور اعمال حسنہ کے نتیجہ تک پہنچانے کا والحسنات۔ وإليه أشار فیض ہے۔ اور اس کی طرف خدائے عز وجل عز اسمه بقوله ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ " و إنه نے اپنے قول ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں اشارہ آخر الفيوض من ربّ العالمین فرمایا ہے۔ اور یہ رَبُّ الْعَلَمِینَ کی طرف سے وما ذكر فيض بعده في كتاب آخری فیض ہے۔ اس کے بعد اَعْلَمُ العالمین اللہ الله أعلم العالمين۔ والفرق في هذا الفيض وفيض الرحيمية۔ أن الرحيمية تبلغ السالك إلى فیض اور رحیمیت کے فیض میں یہ فرق ہے کہ مقام هو وسيلة النعمة۔ وأما رحيميت ایک سالک کو اس مقام تک پہنچاتی ہے فيض المالكية بالمجازات۔ فهو کی کتاب میں کسی اور فیض کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس جو وسیلہ نعمت ہے باقی رہا جزا سزا سے متعلق صفت يُبلغ السالك إلى نفس النعمة وإلى منتهى الثمرات۔ وغاية مالكيت كافيض ، سو وہ ایک سالک کو نعمت کی حقیقت، المرادات۔ وأقصى اخروى ثمرات، مرادوں کی انتہا اور مقاصد کی آخری ۱۳۹ المقصودات۔ فلا خفاء أن هذا حد تک پہنچاتا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ یہ فیض حضرت الفيض هو آخر الفيوض من الحضرة الأحدية۔ وللنشأة احدیت کی طرف سے آخری فیض ہے اور انسانی لے جزا سزا کے دن کا مالک ہے۔ (الفاتحة : ۴)