اِعجاز المسیح — Page 99
اعجاز المسيح ۹۹ اردو ترجمہ الأرض ظلما وجورًا ويترك بڑھ جاتا ہے کہ زمین ظلم و جور سے بھر جاتی ہے الناس طرق الله ذا الجلال۔ لا لوگ خدائے ذوالجلال کے راستوں کو چھوڑ دیتے يفهمون حقيقة العبودية ولا ہیں اور عبودیت کی حقیقت کو نہیں سمجھ پاتے ۔ اور يؤدون حق الربوبية۔ فيصير ادھر ربوبیت کا حق بھی ادا نہیں کر پاتے پس زمانہ الزمان كالليلة الليلاء۔ ويُداسُ ایک تاریک رات کی طرح ہو جاتا ہے اور دین اس الدين تحت هذه اللواء ۔ ثم سختی کے نیچے پامال کیا جاتا ہے ۔ پھر اس کے بعد ۱۲۸ يأتى الله بعالم آخر فتبدل اللہ ایک اور عالم کو ظاہر فرماتا ہے جس کے نتیجہ میں الأرض غير الأرض و ينزل زمین ایک اور زمین میں تبدیل کر دی جاتی ہے اور القضاء مبدلا من السماء ۔ آسمان سے سے ایک اب نئی تقدیر نازل ہوتی ہے اور لوگوں ويُعطى للناس قلب عارف کو معرفت آشنا دل اور نعمتوں کی شکر گزاری کرنے ولسان ناطق لشكر النعماء ۔ والی زبان عطا کی جاتی ہے جس پر وہ اپنے دلوں کو فيجعلون نفوسهم كمورٍ مُعَبَّدٍ بارگاه کبریاء میں ایک پامال راستہ کی طرح بنا لیتے لحضرة الكبرياء ۔ ويأتونه خوفًا ہیں اور بحالت خوف و رجا اس کے حضور حیا سے ورجاء بطرف مغضوض من جھکی ہوئی آنکھ اور ایسے چہرے کے ساتھ حاضر الحياء ۔ و وجه مقبل نحو قبلة ہوتے ہیں جو عطا کے قبلۂ حاجات کی طرف متوجہ الاستجداء ۔ وهمة في العبودية ہوتا ہے۔ اور بندگی میں ایسی ہمت کے ساتھ جو قارعة ذروة العلاء ۔ ويشتد الحاجة بلندی کی چوٹی کو دستک دے رہی ہوتی ہے اور إليهم إذ انتهى الأمر إلى كمال جب معاملہ انتہائی ضلالت کی حد تک پہنچ جائے اور الضلالة۔ وصار الناس كسباع حالت کے تغیر کے باعث لوگ درندوں اور أو نـعـم مــن تـغـيــر الحالة۔ فعند چوپایوں جیسے بن جائیں تو ان ( پاکبازوں ) کی ذالك تقتضى الرحمة الإلهية ضرورت شدید ہو جاتی ہے پھر اس وقت رحمت والعناية الأزلية أن يُخلق فی الہی اور عنایت از لی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ