سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 68
سنن ابن ماجه جلد اول عَلِيَّ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ 68 مقدمة المؤلف رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے بھی اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔وہ بھاگنے والا نہیں ہے۔پس لوگ انتظار کرنے لگے۔پس آپ نے حضرت علی کو بلا بھیجا پھر انہیں وہ (جھنڈا ) عطا فرمایا۔118 : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ 118 حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا ابْنُ رسول الله علیہ نے فرمایا حسن اور حسین جنت کے أَبِي ذِلْبٍ عَنْ نَافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان دونوں کے والدان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ دونوں سے بہتر ہیں۔وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا 119 : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَسُوَيْدُ 119 حضرت حبشی بن جنادہ نے بیان کیا کہ سَعِيدٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى قَالُوا حَدَّثَنَا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ علی شَرِيكَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ حُبْشِيِّ بنِ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور میری طرف جُنَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى الله سے کوئی ادائیگی نہ کرے سوائے علی کے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا عَلِيٌّ 120: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعيلَ الرَّازِيُّ :120 عباد بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ حضرت علیؓ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول عالی صَالِحٍ عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ عَبَّادِ بن عَبد اللہ کا بھائی ہوں اور میں سب سے بڑا راست گو ہوں قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا عَبْدُ اللهِ وَأَخُو رَسُوله میرے بعد یہ بات کوئی نہیں کہے گا مگر کذاب ہی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا الصَّدِّيقُ الْأَكْبَرُ میں نے لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھی۔118 تخریج : ترمذى كتاب المناقب باب مناقب الحسن والحسين 3768، 3781 119 تخریج : ترمذی کتاب المناقب عن رسول الله باب مناقب علی بن ابی طالب 3719