سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 52
سنن ابن ماجه جلد اول 52 مقدمة المؤلف رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تقدیر کے بارے میں کچھ کہا قیامت کے دن سے اس مَنْ تَكَلَّمَ في شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ کے بارے میں پوچھا جائے گا اور جو اس بارے میں الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لَمْ يُسْأَلْ عَنْهُ بات نہیں کرے گا اس سے پوچھا نہیں جائے گا۔قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَاهُ حَازِمُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ 85: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو :85 عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدِ عَنْ عَمْرو سے روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص بن شُعَيْب عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ خَرَجَ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے پاس رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى باہر تشریف لائے اور وہ تقدیر کے بارے میں بحث أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَخْتَصِمُونَ فِي الْقَدَرِ فَكَأَنَّمَا کر رہے تھے تو آپ کا چہرہ مبارک جلال کی وجہ سے يُفْقَأَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ انار جو تو ڑا گیا ہو کے دانوں کی طرح سُرخ ہو گیا اور أُمِرْتُمْ أَوْ لِهَذَا خَلِقْتُمْ تَضْرِبُونَ حضور نے فرمایا کیا تم اس کا حکم دیئے گئے ہو۔یا تم فَقَالَ - الْقُرْآنَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ بِهَذَا هَلَكَتِ الْأُمَمُ اس کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔قرآن کے ایک حصے کو قَبْلَكُمْ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو ما دوسرے سے ٹکرا رہے ہو۔اسی وجہ سے تم سے پہلے غَبَطْتُ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ تَخَلَّفْتُ فِيهِ عَنْ امتیں ہلاک ہوگئی تھیں۔حضرت عبد اللہ بن عمرو نے رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غَبَطْتُ فرمایا کہ میں رسول اللہ اللہ کی جن مجالس میں حاضر نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَتَخَلَّفِي عَنْهُ نہ ہوا تھا ان سب سے بڑھ کر میں نے تمنا کی اس مجلس میں حاضر نہ ہوتا۔حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ 86: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ 86 مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ نہ تو عدولی اور نہ ہی 86 اطراف : ابن ماجه کتاب الطب باب من كان يعجبه الفال ويكره الطيرة 3536 ، 3537، 3538 ، 3539 ، 3540 = عدولی : یعنی یہ مجھنا کہ لازما کوئی بیماری کسی دوسرے سے ہی لگی ہے اور اس پر اصرار کرنا۔