سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 53 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 53

سنن ابن ماجه جلد اول 53 مقدمة المؤلف أَبِي حَيَّةَ أَبُو جَنابِ الْكَلْبِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ بدشگونی ہے اور نہ عامہ ہے " تو آپ کے سامنے ایک عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تو کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کا وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ فَقَامَ کیا خیال ہے کہ ایک اونٹ کو خارش کی بیماری ہوتی إِلَيْهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ہے تو تمام اونٹوں کو لگا دیتا ہے۔آپ نے فرمایا یہی أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ فَيُجْرِب تقدیر ہے۔تو پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ؟ تو الْإِبِلَ كُلَّهَا قَالَ ذَلِكُمُ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ ابْنُ حَاتِمٍ 87 : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ :87 شعبی کہتے ہیں کہ جب حضرت عدی بن حاتم " عِيسَى الْخَزَّازُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي کوفہ آئے تو اہل کوفہ کے کچھ عالم لوگوں کے ساتھ ہم الْمُسَاوِرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَدِيُّ ان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے رسول اللہ کے الْكُوفَة أَتَيْنَاهُ فِي نَفَرٍ مِنْ فُقَهَاءِ سے جو سنا ہے وہ ہمیں بتائیں۔انہوں نے کہا أَهْلِ الْكُوفَةِ فَقُلْنَا لَهُ حَدَّثَنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور حضور نے فرمایا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَے عدی بن حاتم ! اسلام قبول کر لو سلامت رہو أَتَيْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا گے۔میں نے کہا اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا تم عَدِي ابْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ قُلْتُ وَمَا گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور الْإِسْلَامُ فَقَالَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تم تمام تقدیروں پر رَسُولُ اللَّهِ وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ كُلَّهَا خَيْرِهَا ایمان لاؤ۔ان کی اچھی ، بری، شیر میں اور تلخ پر۔وَشَرِّهَا حُلُوهَا وَمُرِّهَا تخريج بخاری کتاب البیوع باب شراء الابل الهيم أو الاجرب 2099 كتاب الطب باب الجذام 5707 باب لا صفر وهو داء ياخذ البطن 5717 باب الطيرة 5753، 5754 باب الفال 5755 ، 5756 باب لا هامة 5757 باب لا هامة 5770 ، 5771 باب لا عدوى 5772 ، 5773 ، 5775 ، 5776 مسلم کتاب السلام / كتاب الطب باب لا عدوى ولا طيرة ولا هامة 4102 ، 4103 4104 ، 4105 ، 4106 ، 4107 باب الطيرة والفال 4108 ، 4109 ، 4110 ، 4111 ، 4112 ابوداؤد كتاب الطب باب في الطيرة 3911 ، 3912 ، 3916 ترمذى كتاب الجنائز باب ما جاء في كراهية النوح 1001 كتاب السير عن رسول الله الله باب ما جاء في الطيرة 1615 كتاب القدر باب ما جاء لا عدوى ولا هامة ولا صفر 2143 عامہ: جاہلیت کے عربوں میں یہ تصور تھا کہ مقتول جس کا بدلہ نہ لیا گیا ہو اس کی روح کھوپڑی سے نکل کر انتقام طلب کرتی ہے جب تک کہ اس کا انتظام نہ لیا جائے۔