سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 37 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 37

سنن ابن ماجه جلد اول 37 مقدمة المؤلف رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ محمد ( ﷺ ) اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا گواہی ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم کرنا اور زکوہ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج وَحَجُّ الْبَيْتِ قَالَ صَدَقْتَ فَعَجِبْنَا مِنْهُ کرنا۔اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ہمیں اس پر يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِيمَانُ تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال کرتا ہے اور آپ کی قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَكُتُبِهِ تصدیق بھی کرتا ہے۔پھر اس نے کہا اے محمد ! ایمان وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو اللہ اور اس کے صَدَقْتَ فَعَجِبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ ثُمَّ قَالَ فرشتوں اور اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں اور يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ آخری دن پر اور تقدیر کو ، اس کی خیر اور شر کو مانے۔كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ قَالَ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔پس ہمیں اس پر تعجب فَمَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ ہوا کہ وہ آپ سے سوال کرتا ہے اور پھر آپ کی مِنَ السَّائِلِ قَالَ فَمَا أَمَارَتْهَا قَالَ أَنْ تَلِدَ تصدیق بھی کرتا ہے۔پھر اس نے سوال کیا اے محمد ! الْأَمَةُ رَبَّتَهَا ( قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي تَلِدُ الْعَجَمُ احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کی اس طرح الْعَرَبَ وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اسے الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ قَالَ ثُمَّ قَالَ نہیں دیکھ رہا ہے تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔پھر اس نے فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ سوال کیا کہ وہ گھڑی کب ہوگی؟ آپ نے فرمایا جس ثَلَاثِ فَقَالَ أَتَدْرِي مَن الرَّجُلُ قُلْتُ الله سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ جانتا۔پھر اس نے کہا اس کی نشانیاں کیا ہیں ؟ فرمایا يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ جب باندی اپنے مالک کو جنے گی۔وکیع نے کہا یعنی مجھی عربوں کو جنے لگیں گے اور جب تو دیکھے کہ ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے بکریوں کے چرواہے اونچی عمارتیں تعمیر کرنے میں ایک دوسرے